’اب ملک ترقی کرے گا‘

نئے ڈی جی آئی ایس آئی کا تعلق پتہ نہیں کس علاقے سے ہے، دیکھنے میں چکوال کے لگتے ہیں۔ چکوالی جرنیلوں کی بہت بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ بہت زیادہ ambitious اور مہم جو نہیں ہوتے، اپنے ادارے اور کمانڈر کے آخری حد تک وفادار ہوتے ہیں۔ ٹاپ موسٹ لیول تک تو کم ہی پہنچ پاتے ہیں البتہ دست راست کا کردار بخوبی اور بخوشی ان کو سونپا جا سکتا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید چکوالی ہیں یا نہیں، خوش نصیب یقیناً ہیں، انہیں جلدی جلدی بڑی ذمہ داریاں مل رہی ہیں۔ پنوں عاقل میں ڈویژن کی کمانڈ سے، ٹینتھ کور میں چیف آف سٹاف، پھر آئی ایس آئی کا سی ڈائریکٹوریٹ، ہلال امتیاز، لیفٹننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی، ایڈجوٹنٹ جنرل اور اب ڈی جی آئی ایس آئی۔

اس وقت فوج میں دو فور سٹار اور ستائیس تھری سٹار جنرلز ہیں۔ تین سینئیر تھری سٹار جنرل ستمبر میں ریٹائر ہو رہے ہیں اور دونوں فور سٹار یعنی چئیرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف جنرل زبیر اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل باجوہ نومبر میں۔ اب دلچسپ صورتحال تب بنتی ہے اگر جنرل باجوہ تین سال مزید ملک و قوم کی خدمت کا فیصلہ کرتے ہیں، اور کم از کم مجھے ایسا ہی لگ رہا تو اس صورت میں ان کی اگلی معیاد ختم ہونے تک موجودہ ستائیس تھری سٹار جنرلز میں سے تئیس ریٹائر ہو چکے ہوں گے۔

چار سینئر موسٹ جنرل اس وقت وہ صاحبان ہوں گے جن کی ابھی حال ہی میں پروموشن ہوئی ہے۔ یعنی جنرل اظہر، جنرل نعمان، جنرل ساحر شمشاد اور جنرل فیض حمید۔ جنرل فیض اگر تب تک ڈی جی آئی ایس آئی رہتے ہیں تو ان کے اگلا آرمی چیف بننے کے امکانات خاصے روشن ہوں گے۔

خیر یہ تو ایک گھر بیٹھے بندے کی قیاس آرائیاں ہیں۔ پاکستان میں کل کا کچھ پتہ نہیں ہوتا، تین سال کس نے دیکھے۔ لیکن ادارہ ملک و قوم کے مستقبل کے متعلق کچھ اہم فیصلے کئے بیٹھا ہے اور اب ان پہ عملدرامد کا وقت آن پہنچا ہے۔ موجودہ تقرریاں اور تعیناتیاں اسی تناظر میں دیکھی جانی چاہئیں۔

ہم کو مطلوب ہیں کچھ فیصلے جلدی جلدی
کرہ ارض ذرا تیز گھمایا جائے

کرہ ارض اب اگر آپ کو تیز تیز گھومتا محسوس ہو تو گھبرائیے گا مت۔ تین اہم ترین عسکری عہدوں یعنی آرمی چیف، ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی جی آئی ایس پی آر پر اگلے تین سال جنرل باجوہ، جنرل فیض حمید اور میجر جنرل آصف غفور بیٹھے ہیں تو سمجھیں ملک کی ستے ای خیراں ہیں۔ ترقی و خوشحالی کے جو نئے باب رقم ہونے جا رہے ان کے پیش نظر اب آپ کے خادم کو بھی ویزا شیزا لگوانے کی کوشش شروع کر دینی چاہیے۔

جن خوش نصیب خواتین و حضرات کے نام چھ ہزار والی لسٹ میں پائے جاتے ہیں، وہ آخری ملاقاتیں شروع کر دیں۔ کون جانے کب بلاوا آ جائے۔

محمد اشفاق راولپنڈی میں رہنے والے دانش ور ہیں جو سیاست، معیشت اور سماج پر اپنی رائے سوشل میڈیا کے ذریعے عوام کے سامنے رکھتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے