کار کمپنیوں کی اجارہ داری کیوں

پاکستان میں چھوٹی گاڑیاں بنانے والی کمپنیاں لوگوں کی جان سے کھیل رہی ہیں۔ ان کمپنیوں کی اجارہ داری چل رہی ہے۔

پہلے سے موجود یہ کمپنیاں کسی اور پرائیویٹ کمپنی کو مارکیٹ میں مقابلے کے لیے آنے کی اجازت دینے سے انکاری ہیں اور حکومت بھی بیرونی سرمایہ کاروں پر شرائط عائد کرنے سے خوفزدہ ہے۔

ان کمپنیوں کے ساتھ ماضی کی حکومتوں نے ایسے معاہدےکئے ہیں جو صرف سرمایہ کاروں کے مالی منافع کو ہی فروغ دیتے یا ان کے تحفظ کے لیے ہیں۔

اب بات کر لیتے ہیں ان کے معیار کی تو ان گاڑیوں کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان پر چیک اینڈ بیلنس کون کرے گا۔ یہ کام حکومت کا ہے جو ایسے ادارے بنائے جو ان کے معیار پر نظر رکھیں۔

ماضی میں پرویز مشرف کے دور میں ان کے ایک وزیر شیرافگن نیازی کے بیٹے کی روڈ ایکسیڈنٹ میں موت ہوئی تو انہوں نے کمپنی پر کیس کر دیا۔ نئی گاڑی کے ایئر بیگ نہ کھل سکے اور ایک انسانی جان چلی گئی۔ شیر افگن بااثر اور قانون جاننے والے شخص تھے مگر ان کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

اگر پاکستانی گاڑیوں کا موازنہ عالمی مارکیٹ سے کیا جائے تو تمام گیجٹس جو آج کل کے دور میں کسی اچھی گاڑی میں ہونا لازمی ہوتے ہیں اور دوسرے ملکوں میں یہی کمپنیاں ان سب چیزوں کا خیال رکھتی ہین، پاکستان میں اپنے عالمی معیار کو برقرار رکھنے کی پروا نہیں کرتیں۔

کار ساز کمپنیاں پوری دنیا میں انسانی جان کی حفاظت کو اپنی اولین ترجیحات میں رکھے ہوئے ہیں اور جو کمپنیاں اس بات کا خیال نہیں رکھتیں ان کو جرمانہ بھی کیا جاتا اور غفلت پر بلیک لسٹ بھی کر دیا جاتا ہے۔

اس کے برعکس پاکستان میں ایسا کوئی قانون نہیں ہے اور اگر ہے بھی تو لوگ اس سے ناواقف ہیں۔ اگر پاکستان میں استعمال ہونے والی گاڑیوں کی بات کی جائے تو یہ صرف وہ ماڈل پاکستان میں لے کر آتے ہیں جو پوری دنیا میں استعمال ہو چکے ہوں یا مسترد ہو چکے ہوں۔

اب گاڑیوں میں موجود سہولیات کی بات کی جائے تو اے بی ایس بریک اور ایربیگ جو کسی بھی ایکسیڈنٹ کے دوران زندگی کے بچاو کے لئے بہت لازمی ہیں، یہ ہر گاڑی میں موجود نہیں، جن گاڑیوں میں موجود ہیں وہ بہت مہنگی اور عام آدمی کی پہنچ سے دور ہیں۔

اگر کوئی حادثہ پیش آ جائے تو یہ گاڑیاں بالکل تباہ و برباد ہو جاتی ہیں. جب کہ دوسرے ملکوں میں سپیشل سپورٹس راڈ استعمال کیے جاتے ہیں جو گاڑی کو ایکسیڈنٹ کی صورت میں فولڈ اور مولڈ نہیں ہونے دیتے ہیں، جو انسان کی زندگی کو محفوظ رکھتے ہیں.

پاکستان میں 8th جنریشن کی ایک کار لانچ ہوئی تو ہے لیکن اس کی قیمت اور مضبوطی پر سوالیہ نشان ابھی سے ہے۔

اب اگر نئی کمپنیوں نے پاکستان میں قدم رکھا ہے وہ کیسے اس انڈسٹری کو آگے لے کے جاتے ہیں یا یہ بھی پیسے کمانے کی دوڑ میں شامل ہو جاتے ہیں۔

وزیراعظم کے مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد نے کمپنیوں کو الیکٹرک کاریں بنانے کی بھی دعوت دے دی ہے۔ معلوم نہیں معاہدے میں انسانی جان اور شہریوں کی جیب کا بھی خیال رکھا گیا ہے یا نہیں۔

متعلقہ مضامین