بڑھاپے کی ٹھرک

کبھی قسمت بندے کا عجب ساتھ دیتی ہے۔ حاجی صاحب اور ان کے برانچ مینیجر کے خلاف لاکھوں کے غبن کی انکوائری چل رہی تھی۔ اسی وقت گولڈن ہینڈ شیک سکیم آ گئی، بنک نے دونوں سے جان چھڑا لینا بہتر سمجھا۔ غبن کا الزام اگر سچ تھا تو گویا حاجی صاحب کی پانچوں گھی میں ہو گئیں اور سر کڑاہی میں۔

اب آگے کچھ نا کچھ تو کرنا تھا، دوستوں نے انہیں ایکسرے مشین لگا لینے کا مشورہ دیا۔

یہ مشورہ درست تھا ویسے کیونکہ ہمارے علاقے میں پرائیویٹ کلینکس اور ہاسپٹل بہت تھے مگر ایکسرے کیلئے صدر ہیلتھ ویز ہی جانا پڑتا تھا۔ میں ان دنوں ایک میڈیکل سینٹر پہ کام کیا کرتا تھا جو بہت سے سرکاری اداروں کے پینل پہ تھا۔ میں متعلقہ محکموں کے ساتھ پینل کے مریضوں کے بل اور پیمنٹ کے معاملات دیکھتا تھا ساتھ ہی میڈیکل سٹور جو ہاسپٹل سے باہر مارکیٹ میں واقع تھا، اس کا انتظام میرے حوالے تھا۔ دونوں کام مزے کے تھے اور یہ مزے دوبالا ہو گئے جب حاجی صاحب نے میرے پڑوس میں ایکسرے سینٹر کھول لیا۔

حاجی صاحب بہت مزے کی شخصیت تھے۔ قد کافی چھوٹا تھا، تھے گول مٹول سے اور کافی تیز چلا کرتے تھے۔ گمان یہ ہوتا تھا گویا کوئی فٹبال اچھلتا کودتا آ رہا ہو۔ رنگت صاف تھی، شیو بہت شارپ کیا کرتے تھے، لگتا یوں تھا کہ داڑھی مونچھ ابھی آئی ہی نہیں۔ سر پہ بھی بال خال خال ہی تھے اور بھنویں بھی قریب سے ہی دکھائی دیتی تھیں۔ سر کی چمک چھپانے کیلئے شوخ سی پی کیپ پہنا کرتے تھے جو ان کی شخصیت کو چار چاند لگا دیتی تھی۔ مگر ان کی سب سے خاص بات ان کی عینک تھی۔

جو لوگ مستقل یا بیشتر وقت عینک پہنتے ہیں، بغیر چشمے کے ان کی آنکھیں کچھ اجنبی سی دکھائی دیتی ہیں۔ مگر حاجی صاحب کو چشمے کے بغیر دیکھ کر تو دہشت سی ہوتی تھی۔ ان کی نظر بہت کمزور تھی اور عینک کے عدسے اسی تناسب سے بہت موٹے۔ چشمہ اتارتے تھے تو لگتا تھا ان کے چہرے سے کوئی عضو غائب ہو گیا ہے- بڑا بیٹا تقریباً میرا ہم عمر تھا،لاء کالج میں تھا، بڑی بیٹی بھی کالج پڑھتی تھی۔ ان سے کچھ محلے داری بھی تھی تو مجھ پہ خصوصی شفقت فرماتے تھے، ویسے بھی بہت ملنسار اور خوش مزاج انسان تھے۔

اب ایکسرے اور متعلقہ امور ظاہر ہے ان کے بس میں نہ تھے۔ ان کے آبائی علاقے کے ایک ایکسرے ٹیکنیشن جو حال ہی میں سعودیہ سے لوٹے تھے انہیں بھرتی کر لیا گیا۔ ان کا نام سراج بھائی فرض کر لیں۔ سراج بھائی میری زندگی میں مسلک اہل حدیث کی پہلی شخصیت تھے، نئے نئے کنورٹ ہوئے تھے اس لئے ان سے مذہب پر بہت مزے کے انکشافات سننے کو ملتے تھے۔ ان کا قیام و طعام بھی حاجی صاحب کے ہاں تھا۔ وہ اصول پرست تھے اور حاجی صاحب بنکر، چنانچہ قیام و طعام کا خرچ ان کی تنخواہ سے کاٹ لیا جاتا تھا۔

تھوڑا سا حوصلہ رکھیں یہ تو ابھی پس منظر بیان ہوا ہے 😜

تو ہوا یوں کہ ایک روز حاجی صاحب ناسازی طبع کے باعث آ نہ سکے۔ سراج بھائی کو دائیں بائیں ہوئے کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ ایک خاتون میڈیکل سٹور میں داخل ہوئیں۔ بے فکر رہیں، ان کا تعارف بھی کرواتا ہوں۔ فی الحال یہ کہ وہ مجھے اور میں انہیں جانتا تھا۔

سلام دعا، خیر خیریت کے تبادلے کے دوران ہی احساس ہوا کہ وہ کچھ جلدی میں ہیں اور کچھ پریشان سی ہیں۔ انہوں نے حاجی صاحب اور سراج بھائی کا پوچھا، پھر ہاتھ میں پکڑا بڑا سا شاپنگ بیگ میرے سامنے رکھا اور تاکید کی کہ یہ صرف حاجی صاحب کو دینا ہے- قدرے تذبذب کے بعد ایک لفافہ بھی حاجی صاحب کو دینے کیلئے میرے ہاتھ میں تھمایا اور تاکید کی کہ "پڑھنا مت”۔ پڑھنا مت پہ یاد آیا کہ ان دنوں "پڑھ کے جلا دینا” کا وہی مقام ہوا کرتا تھا جو آج کل "دیکھ کے ڈلیٹ کر دینا” کا ہے، یعنی نصیحت لازمی مگر عمل ندارد۔

خیر پانچ دس منٹ بعد سراج بھائی کا نزول ہوا۔ انہیں تمام ماجرا اپنے تاثرات کی جھنکار مکس کر کے سنایا۔ خاتون کو وہ بھی جانتے تھے اس لئے ہم دونوں کچھ الجھن کا شکار ہو گئے۔

الجھن دور کرنے کا واحد ذریعہ خط تھا مگر حکم یہ تھا کہ "پڑھنا مت” سراج بھائی آدھے مولوی بھی تھے، انہوں نے شرعی گنجائش یہ نکالی کہ پڑھنا مت کی تاکید میرے لئے تھی، اس کا اطلاق ان پر نہیں ہوتا تھا۔ مگر جب لفافہ کھولا تو خط انگریزی میں تھا۔ اب سراج بھائی نے فتویٰ دیا کہ چونکہ وہ خط پڑھنے کا اختیار رکھتے ہیں اس لئے وہ اپنا اختیار برضا و رغبت مجھے تفویض فرماتے ہیں۔ اس جنرل پاور آف اٹارنی پہ میں نے خط پڑھنا شروع کیا۔ نفس مضمون کچھ یوں تھا کہ

1- میں نے ہمیشہ آپ کو بزرگ سمجھ کر عزت دی ہے مگر آپ اس عزت کے لائق نہ تھے۔
2- میرے بھائی کے روزگار کیلئے اب آپ کو کوشش کرنے کی ضرورت نہیں۔
3- یہ تحائف آپ میری طرف سے اپنی بیٹی کو دے دیجئے گا۔
4- اور آئندہ مجھ سے رابطہ کرنے کی کوشش مت کیجئے گا ورنہ…

اب ایک الجھن تو دور ہو چکی تھی مگر نئی الجھن آن پڑی تھی جو آپ بھی سمجھ ہی گئے ہوں گے۔ سراج بھائی کچھ دیر اپنی پیشانی پکڑ کے سوچتے رہے مگر کوئی شرعی جواز نہ پا کر انہوں نے بے بس سی نظروں سے میری طرف دیکھا۔ اب بال میرے کورٹ میں تھی۔ میں نے جرات رندانہ کا مظاہرہ کرتے ہوئے شاپنگ بیگ پہ ہاتھ ڈالا تو سراج بھائی اچھل ہی پڑے۔ دونوں نے مل کر جلدی جلدی مگر احتیاط سے ڈبے کی پیکنگ کھولی۔ اور پھر ہماری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔

ایک تو وہی اللہ مارا چارلی پرفیوم تھا۔ اس وقت کے لوئر مڈل کلاس عاشق خواتین و حضرات کو اس منحوس پرفیوم کے علاوہ کچھ سوجھتا ہی نہیں تھا۔ ہمیں یہ اتنا ناپسند تھا کہ میں اور آصف اس سے اپنے جوگرز چمکایا کرتے تھے۔ مجرب نسخہ ہے آپ بھی آزمائیے گا۔ دوسری آئیٹم بہت مست تھی یعنی سیاہ جالی دار نائٹی۔ میں نے فلموں سے ہٹ کے رئیل لائف میں نائٹی پہلی بار دیکھی، کیا پتہ پہن کر بھی دیکھتا مگر پھر آئٹم نمبر تین اور چار ہاتھ آ گئے۔ یہ سرخ رنگ کے بہت نفیس قسم کے برا اور انڈروئیر تھے۔ میں نے خوابوں سے ہٹ کے رئیل لائف میں برا بھی پہلی بار ہاتھ میں لیا۔ گوکہ بعد میں بھی یہ سعادت کم ہی نصیب ہوئی مگر آپ اپنا فوکس حاجی صاحب پہ رکھیں۔ ہمارا فوکس بھی اس وقت انہی پہ تھا۔

حاجی صاحب کو موٹی موٹی گالیاں دے کر بھی ہمیں سکون نہ آیا۔

یہ خاتون، ساجدہ باجی کہہ لیجئے، میرے لئے بڑی اور سراج بھائی کیلئے چھوٹی بہنوں جیسی تھیں۔ کبھی ہاسپٹل میں جاب کر کے گئی تھیں اس لئے اکثر آتی رہتی تھیں۔ کوالیفائیڈ نرس تھیں، ہومیو پیتھی اور پرائیویٹ ایم اے کر رکھا تھا۔ جاب چھوڑنے کے بعد سے اپنے علاقے میں ایل ایچ وی ہونے کے ساتھ چھوٹا سا ذاتی کلینک بھی بنا رکھا تھا۔ اپنی فیملی کی بڑی کفیل وہ تھیں، والد کوئی چھوٹی موٹی ملازمت کرتے تھے۔ مضبوط کردار کی مالک تھیں، کبھی کہیں سے ان کے متعلق کچھ غلط یا منفی نہیں سنا تھا۔ ان کا پہلا جرم لڑکی ہونا، دوسرا ورکنگ وومن ہونا، تیسرا غیر شادی شدہ ہونا اور چوتھا خوبصورت ہونا تھا۔ اور یہ سب حاجی صاحب جیسے اودھ بلاؤ پیچھے لگا لینے کیلئے کافی تھا۔

زیادہ غصہ ان بیہودہ تحائف کی وجہ سے آ رہا تھا۔ ہم نے حاجی صاحب کو سبق سکھانے کا تہیہ کر لیا۔ سراج بھائی گھر کے بھیدی تھے، انہوں نے لنکا ڈھانے کی تدبیر بتائی جس پر دونوں کا اتفاق ہو گیا۔

میرا گھر قریب تھا تو میں ایک ڈیڑھ بجے گھر چلا جایا کرتا تھا، کھانا کھا کر اور قیلولہ کر کے ڈھائی تین بجے واپسی ہوتی تھی۔

میری دیکھا دیکھی سراج بھائی اور حاجی صاحب کا بھی یہی معمول ہو گیا تھا۔ آج سراج بھائی پہلے چلے گئے، میں پلان کے مطابق ان سے پندرہ منٹ بعد بمع ساز و سامان نکلا۔ حاجی صاحب کا گھر میرے راستے میں پڑتا تھا۔ بیل دینے سے پہلے ہی ان کی دختر پہ نگاہ پڑ گئی۔ اکثر گھر جاتے یا واپسی پر انہیں ٹیرس پہ موجود پایا تھا اور خوش فہمی یہ تھی کہ میرے لئے پائی جاتی ہیں۔ لیکن حاجی صاحب سے تعلق کی وجہ سے اس خوش فہمی کا کٹی کٹا نکالنے کی کوشش کبھی نہیں کی تھی۔ خیر وہ دروازے پر آئیں تو انہیں معاملہ کچھ اس انداز سے بتایا کہ وہ اچھی خاصی مشکوک ہو جائیں اور وہ ہو گئیں۔ مکرر تاکید کر کے کہ شاپر اور لفافہ صرف حاجی صاحب کو دینا ہے، میں چلا آیا۔ اس روز شام کو حاجی صاحب اور سراج بھائی کی آمد نہ ہوئی۔

صبح کام پہ پہنچا تو ایکسرے سینٹر کا شیشے کا دروازہ ٹوٹا ہوا پایا۔ ہاسپٹل حاضری لگانے گیا تو ریسیپشن کے پیچھے والے ریسٹ روم میں ایک نرس حاجی صاحب کے منہ پر ٹنکچر آیوڈین تھوپ رہی تھی۔ انہیں اپنی جانب دیکھتا پا کر ہاتھ ہلایا مگر چشمہ نہ ہونے کے سبب انہوں نے کوئی رسپانس نہ دیا۔ سراج بھائی ملے تو انہوں نے ہنس ہنس کر حاجی صاحب کی داستان غم سنائی۔

پلان اور توقع کے عین مطابق ان کی بیٹی نے تحائف چیک کئے، خط پڑھا، روتی ہوئی آ کر ماں سے لپٹ گئی اور اسے سارا ماجرا سنا ڈالا۔ حاجی صاحب کی زوجہ نے سینہ کوبی شروع کر دی۔

دونوں چھوٹے بچوں نے ماں اور بہن کو روتا دیکھ کر چیخیں مار دیں۔ حاجی صاحب کی مزید بدقسمتی کہ اس روز بڑا بیٹا بھی گھر پہ تھا۔ یہ ماتم سن کر وہ اپنے کمرے سے نکل آیا۔ سراج بھائی کے بقول پورا خاندان ہی شہنشاہ اور ملکہ جذبات نکلا۔ ایسے ایسے ڈائیلاگ بولے گئے کہ خدا کی پناہ۔ مناسب مواقع پر جلتی پہ تیل چھڑکنے کو سراج بھائی بھی موجود تھے۔ رات حاجی صاحب نے انگاروں پہ لوٹ کر گزاری۔

صبح بقول سراج بھائی دو وقت کے فاقے سے کام پہ نکلنے لگے تو حاجی صاحب کو زوجہ اور بیٹی دونوں بازوؤں سے پکڑ کر اندر گھسیٹنے لگیں۔ حاجی صاحب مار کھا کر یا مار پیٹ کر بالآخر گھر سے نکلنے میں کامیاب ہوئے تو ان کا چشمہ گھر پہ ہی رہ گیا تھا۔ سڑک سے تو سراج بھائی انہیں پکڑ کر اندر لے آئے مگر پانچ منٹ بعد حاجی صاحب باہر نکلنے لگے تو اپنی فاسٹ اینڈ فیورئس سپیڈ کے باعث بند دروازے سے گزر گئے۔

ہم دونوں اس پہ متفق تھے کہ حاجی صاحب کے ساتھ اتنی کافی ہے- چنانچہ ہم نے فائر فائٹنگ کا بیڑا اٹھایا اور حاجی صاحب کو لے کر ان کے گھر چلے آئے۔ انہیں اس مضروب حالت میں دیکھ کر گھر والوں نے سمجھا کہ شاید لڑکی کے بھائی آئے تھے۔ بمشکل ایک جھوٹی سچی کہانی سنا کر جس میں حاجی صاحب کو کم اور ساجدہ باجی کو زیادہ قصوروار ٹھہرایا گیا تھا، ہم سیز فائر کرانے میں کامیاب رہے۔ ان کے بیٹے سے میری خاص دوستی نہ تھی مگر محلے کے کن شرفاء میں میرا اٹھنا بیٹھنا ہے، یہ وہ جانتا تھا۔ اس لیے بار بار وعدہ کرنا پڑا کہ یہ بات باہر نہیں نکلے گی۔ آج شرعی گنجائش یہ نکالی ہے کہ اس نے محلے میں بات کرنے سے روکا تھا فیسبک سے نہیں۔

بعد میں گھر کے بھیدی سے پتہ چلا کہ وہ برا اور انڈروئیر بالآخر بیٹی ہی کے کام آئے۔ یہ بھی عبرت کا مقام تھا مگر میں یہ سوچ کر دل خوش کر لیتا تھا کہ دیے تو میں نے ہی اپنے ہاتھ سے تھے۔

بڑھاپے کی ٹھرک ہمیشہ بندے کو ذلیل کرتی ہے۔ مگر وہ ٹھرک ہی کیا جس میں ذلت نہ ہو۔

متعلقہ مضامین