بجٹ:اپوزیشن کی ”سمجھ داری“ میں شک نہیں

اپوزیشن کی دھمکیاں کھوکھلی نکلیں اور دھما چوکڑی بے کار گئی۔ حکومت نے باآسانی قومی اسمبلی سے بجٹ منظورکرالیا۔70گھنٹے طویل بجٹ اجلاس جمعہ 28جون کواختتام پذیرہوگیا۔

اپوزیشن کی طرف سے پیش کی گئی کٹوتی کی 1ہزارتحاریک مستردکردی گئیں۔ حکومت بجٹ منظوری کے عمل میں ایوان پر چھائی رہی اورخود کو تجربہ کار کہنے والی اپوزیشن جماعتیں بلاجواز ہنگامی آرائی سے ایک منفی بیانیہ پیش کرکے پس پاہوگئیں۔

یہ کہنابے جانہ ہوگا کہ ایوان کے اندر طاقت کامظاہرہ کرنے میں حزب اختلاف ناکام ثابت ہوئی۔ اس کے بجائے ایک لاحاصل کل جماعتی کانفرنس کاانعقادکیاگیا جس کی پٹاری میں سے کوئی ٹھوس حکمت عملی یالائحہ عمل برآمدنہیں ہوسکا۔خوامخواہ شورمچاکرعوام کی کیا خدمت کی گئی ،یہ ایک سوال ہے جس کاجواب تجربہ کارسیاست دانوں پر مشتمل اپوزیشن کودیناچاہئے۔


حکومت نے فنانس بل 146کے مقابلے میں 176ارکان کی اکثریت سے منظورکرالیا ۔ان اعدادوشمارسے ظاہرہوتاہے کہ اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی محض نمائشی تھااوراس کامقصدصرف ایوان کاماحول خراب کرناتھا۔


اپوزیشن لیڈرشہبازشریف نے بجٹ اجلاس کے دوران تقریرمیں تاثردیاتھاکہ جیسے وہ میزانیہ منظورکرانے کی حکومتی کوشش کی سخت مزاحمت کریں گے اورسرکاری بنچوں کوقانون سازی کے پہلے بڑے امتحان میں شدید مشکلات پیش آئیں گی لیکن ایسا کچھ نہیں ہوااوراپوزیشن کے دعوے بوگس نکلے۔

اسی روزپاک فوج کے سربراہ نے معیشت پرمنعقدہ سیمینارمیں کہاکہ مشکل فیصلوں کی کامیابی کے لیے سب ذمہ داری نبھائیں۔ اس پیغام کے بعدتجربہ کاراپوزیشن سے ایسی ہی ”سمجھ داری”کی توقع تھی جو بجاطورپر پوری ہوئی۔
اس میں شک نہیں کہ تحریک انصاف کے ارکان قومی اسمبلی اپوزیشن کی طرم خانی کاڈٹ کرمقابلہ کررہے ہیں اوروہ ابھی تک بیک فٹ پرنظرنہیں آئے بلکہ حزب اختلاف کومنہ کی کھانی پڑتی ہے۔

یہ لوگ خودکوتجربہ کارسیاست دان کہتے ہیں لیکن ان کے تجربات کاغالب حصہ صحت مندپارلیمانی روایات سے محروم ہے،اسی لیے ابھی تک اپوزیشن کوئی تیرمارنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔البتہ اختر مینگل کوساتھ بٹھاکرحکومت ضرور سبقت لے گئی۔


بجٹ کی صورت میں حکومت ایوان کے اندرپہلے بڑے قانون سازی کے امتحان میں کامیاب ہوگئی ہے۔ اب حزب اختلاف کومزید”سمجھ داری” سے کام لیتے ہوئے پارلیمان کے ماحول کوبہتربنانے میں حزب اقتدارسے تعاون کرناچاہئیے۔ یہ کام وہ بہترین اندازمیں کرسکتے ہیں۔مزاحمتی سیاست اس اپوزیشن کے بس کی بات نہیں کیوں کہ ان کی ساری مزاحمت ایک سیمینارکی مارہے۔


وفاقی مشیراطلاعات فردوس عاشق اعوان کایہ کہنابالکل درست ہے کہ بجٹ منظوری کے عمل میں حزب اختلاف کوچاروں شانے چت کردیاگیا۔بجٹ منظور نہ ہونے کی دینے کی دھمکیاں گیدڑبھبھکیاں نکلیں۔ انہوں نے کہاکہ بڑھکیں مارنے والوں کی خواہشات دفن ہوگئیں۔


واقعی اپوزیشن کے سارے پہلوان بری طرح مات کھاگئے۔ ایسالگتاہے کہ حزب اختلاف صرف عوام کوبے وقوف بنانے کے لیے اٹھک بیٹھک میں مصروف رہتی ہے۔

متعلقہ مضامین