زکام، عطر اور عطار

گزشتہ ایک ہفتے سے زکام میں مبتلا ہوں اور آفس جاتے وقت پرفیوم لگاتے ہوئے رہ رہ کر وہ مالدار بزرگ یاد آتے ہیں جن کے پاس ہر دوسرے تیسرے روز ایک نیا نیا عطار اپنے پاس دستیاب بہترین عطریات لے جاتا تھا اور بزرگ ان تمام عطریات کو مسترد فرما دیتے تھے۔
‘اونہہ یہ بھی کوئی خوشبو ہے’
‘اینہہ یہ کیا اٹھا لائے ہو میاں،
‘ایں’
‘آں’
تنگ آکر نومولود عطار نے عطریات کا کاروبار ہی بند کردیا، قصور اس کے عطریات کا نہیں بلکہ بزرگ کے دائمی زکام کا تھا جو خوشبو کی راہ میں حائل ہوتا تھا۔ بزرگ اس پائے کے زکام میں مبتلا تھے کہ پروین شاکر تک کی ‘خوشبو’ انہیں متاثر کرنے میں ناکام رہی تھی۔ بہر کیف عطار نے عطاری چھوڑ کر حکمت (رومی والی نہیں) اختیار کی اور تمام عمر بزرگ کا مقرب خاص بن کر خوش و خرم بسر کی۔
تذکرہ تھا زکام کا جس کی وجہ سے پرفیوم اتنا زیادہ مل لیا کہ ہر آتا جاتا بندہ مڑ کر دیکھتا تھا، پرفیوم بھی کوئی ایسا ویسا نہیں بلکہ ‘ہوس’ نامی خوشبو تھی جو ایک مردم شناس دوست نے فدوی کو عنایت فرمائی تھی۔ پھر طرح طرح کے سوال تھے۔
‘کیوں مہک رہے ہو؟’
‘بالاخر کوئی لڑکی پھنسا ہی لی تم نے، آخر کب تک ترستے’
‘تمہاری پسینے کی بساندھ کہاں گئی۔’

یہ تمام سوالات ایک زکام رسیدہ انسان سے ہوتے تھے اور سبھی جانتے ہیں کہ زکام بڑے سے بڑے پہلوان کو انڈوں پر بیٹھی چڑچڑی مرغی بنا دیتا ہے تو میں ٹھہرا دھان پان سا آدمی، چڑ کر جو جوابات دیے وہ تحریر کیے جانے کے قابل نہیں ہیں۔ زکام کی وجہ سے آواز بھی کچھ بدل گئی چنانچہ ایک شناسا خاتون نے فون پر بدلی ہوئی آواز سن کر فوراً کال منقطع کردی کہ مبادا خانہ خراب کی جگہ قبلہ گاہی نے فون ریسیو کرلیا ہو۔ بدقت انہیں باور کرایا کہ میں ہی ہوں۔ بھاری بھرکم آواز سے ان خاتون کی طبیعت ایسی مکدر ہوئی کہ اس کے بعد اب تک انہوں نے کال تک نہیں کی۔ یہ دنیا کا واحد عشق تھا جس پر پانی کی بجائے زکام پھر گیا تھا۔


بادل آئے ہیں تو بارش بھی ہوگی، اس طرح زکام بھی چھینکوں کا پیش خیمہ ہوتا ہے البتہ زکام کے دوران آنے والی چھینکوں کی ترتیت لاشعوری طور پر بدل جاتی ہے اور چھیکنے کے بعد منہ سے "الحمدللہ” کی بجائے "استغفراللہ” نکل جاتا ہے۔ یہ استغفار زکام پر ہوتا ہے لیکن مفسد سمجھتے ہیں کہ ہو نا ہو اپنے وجود پر استغفار کیا جارہا ہو۔ وہ بھی سہی سمجھتے ہیں ورنہ مفسد کیوں کہلائیں۔
دوران زکام اگر تدبر کی باتیں کروں ایک نصیحت نوع انسانی کے نام کرنا چاہوں گا اشتعال ہی کی طرح زکام کی حالت میں بڑے فیصلے نہیں لینے چاہئیں۔ زکام کی حالت ایک لڑکی کو "بھاڑ میں جانے” کا مشورہ دے دیا اور ادھر زکام اترنے کے بعد رجوع کرنے کی کوشش کی تو سادہ سا جواب ملا۔ "بھاڑ میں جاؤ”
دے اور دل ان کو جو نہ دے مجھ کو زباں اور

ادب کے حوالے سے بات کی جائے تو نقد نگاران کی ایک کثیر تعداد انہی زکام گزیدہ افراد پر مشتمل ہے اور ان کا رویہ تخلیقات کے ساتھ ان بزرگ کی طرح ہوتا ہے جو عطار کی خوشبوؤں کو سونگھ کہ منہ بناتے تھے۔ ادھر نقد نگاران تخلیق کے فقدان کا شکوہ کرتے نظر آتے ہیں۔ بزرگ کی طرح نقد نگاران کے معاملے میں بھی قصور خوشبو یا تخلیق کا نہیں بلکہ دائمی زکام کا ہوتا ہے۔
خوشبو اور موسیقی کو روح کی غذا کہا جاتا ہے لیکن زکام کے سامنے یہ تغذیہ بھی ہتھیار ڈال دیتا ہے۔ زکام کی حالت میں اپنی پسندیدہ مخصوص دھن بھی سماعتوں پر گراں گزرتی ہے کہ اس کیفیات میں انسان کی ساری حسیات ناک کی جانب مرکوز ہوجاتی ہیں اور محض ناک ہی ہوتی ہے جو بے سدھ پڑی ہوتی ہے۔

زکام کی حالت میں اگر مجبوری نہ ہو تو کہیں نکلنے سے گریز کرنا چاہیے، اس سے لڑائی جھگڑے کے امکانات ختم ہوجاتے ہیں بلکہ گزشتہ سات دنوں کی اذیت کے بعد میرا ایمان ہے کہ دنیا میں امن کے قیام کیلئے ناگزیر ہوگیا ہے کہ ساری توجہ اور وسائل ایٹامک ری پروسیسنگ پلانٹس لگانے کی بجائے زکام کا تیز ترین اور تیر بہدف نسخہ تلاش کرنے پر مرکوز کردیے جائیں۔ زکام کے خلاف ایک عالمگیر جنگ ہونی چاہیے، وہ جنگ جو آنے والی تمام جنگوں کے امکانات کو ختم کردے۔ لیکن یہ جنگ بھی ناک کے خلاف ہوگی اور ناک کی ہی بقاء کیلئے ہنستے بستے شہر ویرانوں میں تبدیل کردیے جاتے ہیں۔ میرا یہ بھی ماننا ہے کہ زکام تشدد کو فروغ دیتا ہے، ایک پر امن چہرے پر اچانک زکام کی یلغار ہوتی ہے۔ چہرے کے نقوش بدلنے لگتے ہیں۔ مٹھیاں بھینچ جاتی ہیں، ناک کو کچلا جاتا ہے، کبھی کبھی دو چار گھونسے بھی رسید کردیے جاتے، پیشانیوں پر لکیریں بنتی ہیں اور پھر وہ لکیریں سرحدوں میں تبدیل ہوجاتی ہیں۔ لکیر کی ایک سمت شورش اٹھتی ہے اور وہ سر درد میں تبدیل ہوجاتی ہے دوسری سمت زکام کی وجہ سے بدامنی بنی ہوتی ہے۔

متعلقہ مضامین