میرے قاضی تیرے انصاف پہ رونا آیا

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے پیر کے روز تیز ترین انصاف کے موضوع پر ایک سیمنار میں تقریر کی ۔ تقریر کیا تھی قران اور سنت کے حوالوں سے بھرا ہوا ایک دلگیر وعظ تھا ۔ اپنی تعریفیں تھی اور ریاست مدینہ کے نام پر ایک ایسا ’فراڈ‘ تھا جس کی جھلکیاں پورے پاکستان میں خود کشیوں، غربت، بے روزگاری اور مہنگائی کی صورت میں نظر آ رہی ہیں۔


قاضی نے کہا "عدالتوں میں سماعت فیصلوں کیلئے کرتا ہوں کارروائی پوری کرنے کے لیے نہیں۔‘ خوف آیا سوال پوچھ لیں یہ بائیس کروڑ پاکستانیوں کی ریاست کسی کے باپ کی جاگیر ہے ،سابق جنرل مشرف کا معاملہ خصوصی عدالت میں سماعت کیلئے آتا ہے جج رخصت پر چلا جاتا ہے اور قاضی آنکھیں بند کر لیتا ہے ۔قاضی سیمنار میں کہتا ہے "فیصلے ضمیر کے مطابق کرتا ہوں” دل کیا پوچھا جائے ،فیصلے آئین اور قانون کے مطابق کرنا چاہیں یا ضمیر کے مطابق ۔
چیف جسٹس نے کہا "قران پاک میں فیصلے انصاف سے کرنے کا حکم آیا یے” سوال پوچھتے ہوئے خوف آتا ہے کہ نواز شریف کے تمام مقدمات صرف پانچ مخصوص جج ہی کیوں سنتے ہیں اور ان پانچ مخصوص ججوں میں خود چیف جسٹس بھی شامل یے ۔کیا یہ بھی قران پاک میں حکم کئے گئے انصاف کا تقاضا ہے ؟
کون سوال کرے گا محسن ڈاور اور علی وزیر کی درخواست ضمانت کے دن جج چھٹی پر چلا جاتا یے اور چیف جسٹس کی آنکھیں ،کان اور زبان بند ہو جاتی ہے۔


ایک شرمناک عدالتی تاریخ ہے جسٹس منیر سے جسٹس ثاقب نثار تک پھیلی ہوئی ہے ۔اس بدقسمت قوم کو کل کا چیف جسٹس کہتا تھا "میں ڈیم پر پہرہ دوں گا” آج لندن بیٹھا ہے ۔ کون گھسیٹ کر لندن سے لائے گا اور ڈیم کی پہرہ داری پر بٹھائے گا "تم نے خود وعدہ کیا تھا”
فوجی آمر کم از کم دس سال کی اوسط سے حکمران رہتے ہیں اور جب آتے ہیں یہی ثاقب نثار ،یہی نسیم حسن شاہ یہی جسٹس ارشاد یہی کھوسے اور یہی افتخار چوہدری بھاگ کر چھلانگ لگا کر فوجی آمر کا حلف لے لیتے ہیں اور پھر ایک دن ایسا آتا ہے قوم کو بھاشن دیتے ہیں "فیصلے قران پاک کی تعلیمات کے مطابق دیتا ہوں”

کون سوال پوچھے گا یہ کونسے اسلام کا عدل اور انصاف ہے جوڈیشل کونسل بہت سارے کیس چھوڑ کر ملک بھر کی وکلا تنظیموں کا احتجاج نظر انداز کر کےجسٹس قاضی فائز عیسی اور کے کے آغا کا کیس سننا شروع کر دیے اور شوکاز نوٹس بھی جاری کر دے ۔کبھی ضمیر نے جھنجھوڑا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی کاروائی عدل ،انصاف ،آئین اور قانون کے مطابق ہے ؟
کس ملک میں ہوتا ہے سابق چیف جسٹس ایک سیاسی جماعت کے راہنماوں کے ساتھ بیٹھ کر پریس کانفرنس کرے ؟ انصاف نہ ہوا طوائف کا کوٹھا ہو گیا ۔
پاکستان معاشی بحران کا شکار ہو چکا ہے اور یہ معاشی بحران بہت ظالم چیز ہوتی ہے ۔یہ سویت یونین ایسی سپر پاور کو کھا جاتا ہے ۔


اس قاضی کے انصاف پر رونا نہیں ہنسنا چاہے جہاں سیاسی راہنما ضمانتیں کرانے سے انکار کر دیں کہ انصاف تو ملنا نہیں وکلا کی فیسیں کیوں دیں۔ کیا قاضی کو نظر نہیں آتا ایک سابق صدر نے ضمانت کے درخواست واپس لے لی۔ کیا قاضی نہیں دیکھتا ایک سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بھری عدالت میں کہتا ہے مجھے نوے دن کے ریمانڈ پر بھیج دیں ضمانت کی درخواست نہیں دوں گا۔ کیا قاضی کو خبر نہیں سابق وزیر داخلہ احسن اقبال کہہ رہا ہے گرفتار کر لو ضمانت نہیں کراوں گا۔ کیا قاضی کی آنکھیں اور کان بند ہیں جیل میں بند سابق وزیراعظم نواز شریف سے 35 سال پہلے اراضی کی الاٹمنٹ پر سوال جواب ہوتے ہیں اور نجی چینلز پر یہ سوال جواب نشر ہو رہے ہوتے ہیں۔ کون میڈیا کومخبری کر رہا ہے اور کیا یہ قران پاک کے احکامات کے مطابق ہے ’انصاف کرو‘۔

اصل میں سب کی گردن پھنس گئی ہے اور سب کے سب ایک ہی زنجیر سے بندھے ہوئے ہیں ۔ آج ریاست کی مشینری پر ان کا قبضہ ہے جو قانون ،انصاف ،آئین اور مدینہ کی مثالی ریاست کے داعی ہیں ۔سب کے سب مشعلیں لے کر بھاگے پھر رہے ہے جیسے محل پر آسمان ٹوٹ پڑا ہو ۔


مولوی خادم حسین کے چابی والے اور کینڈین مولوی کے پالن ہار مولوی فضل الرحمن سے ملنے کی درخواستیں گزار رہے ہیں اور فضل الرحمن ہاتھ نہیں آ رہے۔


نہ نواز شریف ڈیل کیلئے تیار نہ آصف زرداری اور نہ کوئی اور ۔ سیاستدان بھی دیکھ رہے ہیں گردن پنجرے میں ڈالی تھی اس مرتبہ پھنس گئی ہے ۔کوئی ریسکیو کیلئے تیار نہیں اور معیشت سالوں ،مہینوں اور دنوں نہیں گھنٹوں کے حساب سے تباہ ہو رہی ہے ۔ رواں مالی سال کے پہلے مہینے کے ٹیکس وصولی کے اعداد و شمار آ گئے ہیں ہوش ٹھکانے نہیں آئے ، جیل کے کمرے میں نواز شریف سے کئے گئے اور سوالات کی میڈیا کو مخبری کر رہے ہیں۔


اس مائند سیٹ نے حسن نواز کی تصویر لیک کی تھی، ان لوگوں نے رانا ثنا اللہ کی جیل کی کوٹھری کی تصویر لیک کی تھی ۔کیا ان حرکتوں سے تبدیلی آ گئی، معیشت مستحکم ہو گئی، بند صنعتیں چلنے لگیں۔ روپیہ کی قدر مستحکم ہو گئی؟

تبدیلی قوم کو منتشر کرنے سے نہیں قومی اتحاد سے آئے گی۔ ملکی سلامتی کو تحفظ فوج کی عزت اور احترام سے ملے گا۔جس ملک میں بڑی سیاسی جماعتوں کے کارکن اسٹیبلشمنٹ کو فریق سمجھنے لگیں وہ بنانا ریاست تو بن سکتی ہے ایک طاقتور معیشت والی خوشحال ریاست نہیں بن سکتی ۔ جس ملک کے قاضی بھی آئین اور قانون کی بجائے مذہب کو اپنی سچائی کیلئے جواز بنانا شروع کر دیں وہاں حالات سے ڈرنا چاہیے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے