کروڑ افغان قتل کر کے جنگ جیت سکتے ہیں

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر وہ چاہیں تو افغانستان کے ایک بڑے ٹکڑے کو دنیا کے نقشے سے مٹا سکتے ہیں مگر اس میں دس ملین افراد مارے جائیں گے۔

جمعہ کو وائٹ ہاؤس میں رپورٹروں کے سوالوں کے جواب میں امریکی صدر نے کہا کہ طالبان کے ساتھ امن مذاکرات میں بہت پیش رفت ہوچکی ہے اور ہم بات کر رہے ہیں ۔ 

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں پیش رفت تسلی بخش ہے تاہم اتنی صلاحیت ہے کہ افغانستان کے ایک بڑے حصے کو صفحہ ہستی سے مٹا دیں جس میں دس ملین افراد مارے جائیں گے۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے کہا کہ ’ہم نے بہت پیش رفت کی ہے۔ ہم مذاکرات کر رہے ہیں۔‘

امریکی صدر نے کہا کہ افغانستان میں امریکی افواج تقریبا دو دہائیوں سے  موجود ہیں۔ 

ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ ’چاہیں تو افغانستان میں جنگ دو، تین یا چار دنوں میں جیت سکتے ہیں لیکن ایک کروڑ لوگوں کو مرتے نہیں دیکھنا چاہتے۔‘

یاد رہے کہ امریکی صدر نے اسی طرح کی بات گذشتہ ماہ بھی کی تھی جس پر افغانستان میں عوام اور حکومت نے سخت ردعمل ظاہر کیا تھا۔ جولائی میں ایک بیان دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایک کروڑ ہلاکتوں کا ذکر کیا تھا۔

امریکی صدر نے صحافیوں سے کہا کہ وہ جنگ جیتنے کے لیے ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کی بات نہیں کر رہے بلکہ روایتی جنگ کے ذریعے ہی کامیابی حاصل کر سکتے ہیں جس میں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوں گی۔

ادھر معتبر امریکی روزنامے واشنگٹن پوسٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ طالبان کے ساتھ معاہدے کے تحت امریکہ افغانستان میں اپنی موجودہ افواج کی تعداد کم کر کے آٹھ ہزار کرنے پر راضی ہوگیا ہے جس کے جواب میں طالبان جنگ بندی کا اعلان کرکے افغان حکومت کے ساتھ امن مذاکرات کریں گے۔

خیال رہے کہ امریکہ کے اس وقت افغانستان میں چودہ ہزار فوجی تعینات ہیں۔

متعلقہ مضامین