سقوط سری نگر

یہ پناما ڈرامہ کے انڈے بچے ہیں ۔ مودی کا یار نواز شریف اسی لئے نشانہ بنا تھا۔ بازی گر کھلا دھوکہ دیتے ہیں ۔ ہدف کے حصول کے لیے بساط بچھاتے ہیں ۔ مولوی خادم حسین بھی مہرہ تھا جب پٹ گیا تو تبلیغی مہرہ رکھ لیا ۔ میڈیا بھی ایک مہرہ ہے۔ توہین رسالت توپ تھی جس نے ٹھیک ٹھیک نشانے لگائے ۔

2018 کے الیکشن بھی بساط پر لگا مہرہ تھا ۔ اب شاہ مات ہو گئی ہے ۔ کشمیر ایک کیک تھا اور بڑی فوج کا ایک جواز اب بھارتیوں کے بھی کشمیر میں کارپوریٹ مفادات پیدا ہو گئے ہیں ان کی فوج بڑی ہے ، معیشت مستحکم ہے وہ یہ کیک لے اڑے ہیں۔

اصولی طور پر ایٹمی دھماکوں کے بعد جب واجپائی پاکستان آیا۔ مینار پاکستان پر پاکستان کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا وہ سنہری موقع تھا فوج اپنا وزن نواز شریف کے پلڑے میں ڈال دیتی اور مسلہ کشمیر کا کوئی بہتر حل تلاش کر لیا جاتا۔ حب الوطنی کے پہاڑوں نے کارگل کر دیا اور پھر جب بھارتیوں نے دور مار توپیں اور جنگی طیارے استمال کرنا شروع کر دئے تو یہ کہہ کر بھاگ گئے ”بھارت نے اوور ری ایکٹ کیا۔“

جو سینکڑوں جوان سپلائی لائن منقطع ہونے سے شہید ہوئے نہ کوئی کمیشن بنے گا اورنہ تحقیقات ہوں گی ۔ یہ وہ اپنی مرضی کی حب الوطنی ہے جس نے آج بھارتیوں کو کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا موقع دیا ۔ نہ کل کوئی آپ سے سوال کر سکتا تھا نہ آج ممکن ہے ۔ کوئی وطن پرست سوال کرے گا تولاپتہ ہو جائے گا۔

یہ ہماری فوج ہے یہ ہمارا پاکستان ہے ۔ جن لوگوں نے پاکستان کو معاشی اتنا طور پر کمزور کر دیا ہے کہ آج بھارتی مقبوضہ کشمیر کو ہڑپ کرنے کیلئے تیار ہو گئے وہی قومی مجرم ہیں ۔ جن لوگوں نے چین ایسے دوست ملک کو پاکستان سے اتنا متنفر کر دیا کہ انڈین حکومت چین کو مسئلہ کشمیر کا ایک فریق مانتے ہوتے ہوئے بھی کشمیر کی خصوصی حیثت ختم کرگئی وہی پاکستان کے مجرم ہیں ۔

پاکستانی معیشت ٹیک اف کی پوزیشن میں تھی ۔ سی پیک پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ہو رہی تھی ۔ بھارتی وزیراعظم خود نواز شریف کی بیٹی کی شادی پر گھر آیا تھا ۔ وزیراعظم کی ملوں سے را کے جاسوس برامد کرا دیے۔ ثاقب نثار سی پیک کی سرمایہ کاری کو پاکستانی بچوں پر بے پناہ قرضے کہہ کر عدالتوں میں ڈرامے کرنے لگا ۔ نجی چینلز پر اینکرز پانچ سال میں 35 ارب ڈالر کے قرضوں کا نوحہ پڑھنے لگے ،اس ڈرامے کے ہدایت کار اورحصہ لینے والے اداکار سب قومی مجرم ہیں ۔

پاکستانی معیشت کا خون جن ہاتھوں میں ہے وہ نامعلوم نہیں رہے ۔جن ہاتھوں نے پاک فوج کی ساکھ متاثر کی وہ بھی دستانوں میں نہیں ۔

اب کیا کریں گے ؟ کیا آپشن موجود ہیں ۔ بھارتی تو کر گزرے کہ جانتے ہیں معیشت پر آئی ایم ایف کے امریکی نمائندے آ کر بیٹھ گئے ہیں ۔بھارتی جانتے ہیں چینی ناراض ہیں ۔انہوں نے مقبوضہ کشمیر ہڑپ کرنے کیلئے بہترین وقت چنا ہے اور اس وقت کا انتخاب کرنے کا موقع خود حب الوطنی کے پہاڑوں نے فراہم کیا ہے ۔

چیرمین سینٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد ناکام بنا دی بھارتیوں کے عزائم ناکام بنا کر دکھائیں ۔ سب کو غدار بنا دیا نواز شریف مودی کا یار، اچکزئی افغانیوں کا یار ، پی ٹی ایم والے بھارتیوں کے یار ، اے این پی والے بھارتیوں کے یار۔ کسی کو امریکی ایجنٹ، کوئی بھارتی ایجنٹ، کوئی افغانی ایجنٹ، پوری قوم منتشر کر دی ۔ قومی یکجہتی کو پارہ پارہ کر دیا۔

کبھی نواز شریف کو لندن ہرکارے بھیجتے تھے وطن واپس نہ آو جب جیل جانے کیلئے آجاتا تھا تو پراپیگنڈہ کرتے تھے ڈیل کیلئے دس ارب ڈالر کی پیشکش کر رہا ہے ۔

کبھی آصف علی زرداری کو چور اور ڈاکو کہتے تھے اور پھر چیرمین سینٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد ناکام بنانے کیلئے مذاکرات کرتے ہیں ۔ تف ہے ایسی حب الوطنی پر ۔ پاکستان کو بنانا سٹیٹ بنا دیا ہے ۔اب کیا بھارت پر حملہ کریں گے ‘ نہیں ممکن معیشت اس حملہ کی اجازت نہیں دیتی ۔حافظ سعید اور مجاہدین کو استمال کریں گے ؟ نہیں ممکن پوری دنیا کی نگاہیں آپ پر ہیں اور ایف اے ٹی ایف کی شرطیں پوری کرنا ہیں۔

عقل کے اندھوں کا تکیہ امریکیوں پر ہے یہی تکیہ آگ بھڑکانے کیلئے ہوا دے گا ۔جو امریکی عراق ، شام اور لیبیا کی فوجیں تباہ کر چکے ہیں وہ ایٹمی صلاحیت کو ختم کرنے کی ضرور کوشش کریں گے۔ اللہ اس ملک کو ناقص منصوبہ بندی والوں سے محفوظ رکھے۔

متعلقہ مضامین