بیرون ملک کتنے پاکستانی ڈالرز

چیرمین ایف بی آر نے انکشاف کیا ہے کہ بیرون ملک پاکستانیوں کا کتنا پیسہ پڑا ہوا ہے اس کا پتہ نہیں چل سکتا تاہم ابھی تک پاکستانیوں کے بیرون ممالک میں سات سے آٹھ ارب ڈالر کا پتہ لگا لیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 53 افراد کا ڈیٹا متعلقہ ممالک کو بھیجا گیا ہے جبکہ مجموعی طور پر 1227 افراد کا ڈیٹا اور ریکارڈ تلاش کیا جا رہا ہے۔


اسد عمر کی زیر صدارت قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس ہوا اجلاس میں ایف آر نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ او ای سی ڈی کے ساتھ 2016 میں معاہدہ کیا گیا۔

2018 میں 28 ممالک کے ساتھ ٹیکس معلومات کا تبادلہ کیا گیا ہے 57 ہزار 450 پاکستانیوں کے آف شور اکاونٹس کا ڈیٹا مل چکا ہے 378 افراد کے اکاونٹس میں 10 لاکھ ڈالرز سے زیادہ ہے 378 افراد کے پاس 80 فیصد سرمایہ ہے۔

154 افراد کے پاس 5 سے ساڑھے سات لاکھ ڈالرز موجود ہیں 123 افراد کے پاس 7 لاکھ 50 ہزار سے 10 لاکھ ڈالرز موجود ہیں 1325  افراد کے پاس 5 سے 10 لاکھ ڈالرز موجود ہیں۔

378 میں سے 325 افراد کے کیسز آف شور کمشنرز کو بھیجے گئے مجموعی طور پر 1227 افراد کا ڈیٹا اور ریکارڈ تلاش کیا جا رہا ہے۔

اسد عمر نے کہا کہ ملک کے اندر نہ گندم کی اور نہ ہی آٹے کی کمی ہے ملک میں گندم کی وافر مقدار موجود ہے۔

کمیٹی نے آٹے کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کے احکامات دیے۔

متعلقہ مضامین