کشمیر کے لیے جنگ لڑیں


پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وہ کشمیر پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے بیان سے دلبرداشتہ ہیں۔ ان کے بیان سے مایوسی ہوئی۔ کوشش کرنے سے پہلے ہی ایسا بیان دینے والے وزیر خارجہ بتائیں ان کے کیا ارادے ہیں۔ 

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کو ان سوالات کے جواب دینا ہوں گے۔ قوم حکومت کی جانب دیکھ رہی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے صحافی بھی پوچھ رہے ہیں کہ پاکستان کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ بھی ان کے خلاف اس سازش میں شامل تو نہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ دو دن انتظار ہوتا رہا مگر وزیراعظم عمران خان کشمیر نہ گئے۔ موجودہ حکومت نے معیشت کا بیڑہ غرق کر دیا ہے۔ تمام پاکستانی کشمیر کے مسئلے پر متفق و متحد ہیں۔ جس دن کشمیر پر خبر ہونی چاہیے اس دن مریم نواز کی گرفتاری کی خبر بن جاتی ہے۔ 

بلاول کا کہنا تھا کہ بیرون دنیا میں جب محبوبہ مفتی کی گرفتاری پر بات کرتے ہیں تو وہاں صحافی پاکستان میں اپوزیشن کی گرفتاریوں پر سوال کرتے ہیں۔

”حکومت کا جو بھی فیصلہ ہو ہم کشمیر پر جدوجہد چھوڑنے کو تیار نہیں۔ کسی نالائق وزیراعظم کے غلط فیصلے کی وجہ سے کشمیر کاز کو نقصان نہیں پہنچنے دیں گے۔“

انہوں نے کہا کہ جب ہم کشمیر کا مقدمہ لڑتے ہیں تو ہماری اخلاقی پوزیشن بھی ہونا چاہیے۔ 

”کشمیر پر حکومت سے زیادہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بات کرتی ہے۔ نیویارک ٹائمز اور بی بی سی سے ہماری اپنی لڑائی چل رہی تھی مگر اب ان کی مودی حکومت سے لڑائی چل رہی ہے کیونکہ انہوں نے کشمیریوں کی خبریں دی ہیں۔“

کراچی میں بارش کی تباہی پر سوشل میڈیا پر دو دن سے پروپیگنڈے چل رہا ہے۔ چاہتے ہیں پاکستان میں جمہوریت مضبوط ہو۔

متعلقہ مضامین