سلامتی کونسل کا اجلاس، کس نے کیا کھویا کیا پایا!

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے 16اگست 2019 کو ہونے والے اجلاس میں سلامتی کونسل نے ایک مرتبہ پھرعملاً اپنی70 سال قبل کی قراردادوں کی تجدید کرتے ہوئے واضح طور پر جموں و کشمیر کو اندرونی معاملہ قرار دینے کے بھارتی دعوے کو مسترد کردیا اور 31دسمبر 1948ء اور 5 جنوری 1949ء کی اپنی قراردادوں کو زندہ کیا ہے ، جن کو ہمارے ایک آمر اور ان کے حواری بھی مردہ اور بعض غیر فعال قرار دے چکے تھے ۔ سفارتی میدان میں یہ پاکستان اور ریاست جموں کشمیر مظلوم کشمیریوں کی بہت بڑی کامیابی ہے، تاہم قید اور محصور کشمیریوں کے حوالے سے واضح حکم نہ آنا مایوسی ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ اقوام متحدہ نے کبھی بھارت کے موقف کی تائید نہیں کی مگر اقوام متحدہ نے اپنی قراردادوں کی فکر بھی نہیں کی ۔ ان قراردادوں پر عمل درآمد یعنی اقوام متحدہ کی نگرانی میں رائے شماری کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک لاکھ سے زائد کشمیری شہید ہوچکے اور لاکھوں متاثر ہیں۔

یہ حقیقت ہے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے حالیہ اجلاس میں بھارت کو سخت سبکی کا سامنا رہا ، شاید اس کی وجہ بھارتی حکومت کے جارحانہ عزائم،اقدام اور جلد بازی ہے۔

اجلاس کے بعد اقوام متحدہ میں چینی سفیر کاکہناتھا کہ کشمیر میں حالات بہت کشیدہ اور خطرناک ہیں اور سلامتی کونسل کے ارکان کا خیال ہے کہ پاکستان اور انڈیا کو کشمیر میں یک طرفہ کارروائی سے باز رہنا چاہیے۔ یک طرفہ کارروائی میں اگر چہ دونوں ممالک کا ذکر ہے مگر بادی النظر میں بھارت کو نشانہ بنایا گیا ہے ،کیونکہ یک طرفہ عمل یعنی مقبوضہ کشمیر کو اپنی یونین میں ضم کرنے کا اعلان بھارت نے کیا ہے اور اسی پر اجلاس بلایا گیا تھا ۔ اس لئے اصل نشانہ بھارت ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستانی سفیر ملیحہ لودھی کا کہنا تھا کہ آج کے اس اجلاس سے انڈیا کے دعوے کی نفی ہوتی ہے کہ ریاست جموں و کشمیر انڈیا کا اندرونی معاملہ ہے۔ملیحہ لودھی کی بات درست ہے۔

اقوام متحدہ میں بھارتی سفیر ایس اکبرالدین نے آرٹیکل 370 کوانڈیا کا اندرونی معاملہ قرار دیا مگر ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ بھارت کشمیر کے بارے میں اب تک ہونے والے معاہدوں کا پابند ہے اور یہ مسئلہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان باہمی طور پر حل ہونا چاہیے۔ یعنی خود اعتراف کیا ہے کہ کشمیر بھارت کا نہ تو اندرونی معاملہ اور نہ ہی غیر متنازع علاقہ ہے۔ اس میں پاکستان اور ریاست جموں و کشمیر( مقبوضہ کشمیر، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان) کے عوام کے موقف کی تائید ہے۔

مجموعی طور پر سلامتی کونسل کا اجلاس پاکستان اور ریاست جموں کشمیر کی آزادی پسند قوتوں کے لئے حوصلہ افزا ہے، تاہم مقبوضہ کشمیر میں 13 دن سے کرفیو، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، کھلی بھارتی درندگی پر سلامتی کونسل کا کوئی واضح فیصلہ سامنے نہ آنے سے دنیا بھر کے مظلوموں بالخصوص محصور کشمیریوں کو شدید مایوسی ہوگی ۔

سلامتی کونسل کے حالیہ اجلاس کے بعد اب پاکستان پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس معاملے پر اپنی سفارتی مہم کو تیز کردے ،کیونکہ ایک بار پھر اس کے پاس دنیا کے سب سے بڑے فورم کا فیصلہ آیاہے کہ ریاست جموں و کشمیر (مقبوضہ کشمیر، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور اقصائے چن)متنازع ہے اور اس کا حل تلاش کرنا ہے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 6 جون 1998ء کو بھی اپنے اجلاس میں تنازع کشمیر کے حوالے سے دونوں ممالک پر زور دیا تھاکہ وہ حل کریں ۔

اب بھارت کی یہ کوشش ہوگی کہ وہ ایک مرتبہ پھر تاخیری حربے استعمال کرے اور پاکستان کو دوستی کے لالی پاپ دے ، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ دھمکیوں پر اتر آئے ۔ اس مرحلے پر پاکستان کو کسی لالچ یا دباؤ کے بغیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلے کے حل کیلئے سخت موقف اپنانا ہوگا ۔ مزید یہ کہ پاکستان اس بار ریاست جموں و کشمیر کے لوگوں کوبھی سامنے رکھے اور مکمل اعتماد میں لے تاکہ وہ اپنا موقف پیش کرسکیں ۔ 72سال میں پہلی بار مقبوضہ کشمیر بالخصوص وادی میں بھارت کے لئے کلمہ خیر کہنے والا کوئی نہیں بچا ہے۔

مہاراجہ ہری سنگھ کے 26اکتوبر 1947ء کے معاہدے کی بنیاد پر بھارت نے کشمیر کو اپنے آئین آرٹیکل 370 کے ذریعہ اپنی یونین کے ساتھ جوڑا تھا ،اب بھارت نے یہ معاہدہ خود تحلیل کردیا ہے ، بھارت کی حیثیت مکمل طور پر ایک جارح اور قابض کی ہے۔ اس موقع پر دونوں طرف بسنے والے ریاست جموں و کشمیر کے 2 کروڑ سے زائد عوام کومنظم کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ سلامتی کونسل کا یہ عمل پاکستان، ریاست جموں و کشمیر، امت مسلمہ اور دنیا بھر کے مظلوموں کے غم و غصے کی کو کم کرنے کی کوشش ہو، سلامتی کونسل کا فوری کوئی اعلامیہ جاری نہ ہونا بھی سوالیہ نشان ہے۔

اس لئے پاکستان کو اپنے ملکی خلفشار کو دور کرتے ہوئے تمام ترتوجہ خارجی
اور معاشی میدان پر مرکوز کرنا ہوگی ،ملک کے اندر سیاسی و دیگر انتشار کے خاتمے اور استحکام کے لئے عملی اقدام کرنے ہونگے،کیونکہ اندرونی کمزوری اصل کمزوری ہوتی ہے۔ بھارت اب دیگر محاذوں میں ہمیں کمزور کرنے کی کوشش کرے گا۔یہ بھی کہ سلامتی کونسل کی حالیہ مثبت پیش رفت کو سیاسی رنگ اور کریڈٹ کی جنگ سے بھی دور رکھنا ہوگا اور باقی تاریخ میں پہلی بار کی رٹ ختم کرنے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین