پاکستانی صنعت کی تباہی

ہماری انڈسٹریل بیس خاصی کمزور ہے- کسی سیکٹر کو ایک سال دھچکا پہنچے تو وہ اس سے سنبھلنے میں دو سے تین سال لگا دیتا ہے۔ یہاں تو ایک سال سے ایسا لگتا ہے پاکستانی صنعتوں سے گن گن کر کسی بات کا بدلہ لیا جا رہا ہو۔ صرف حالیہ بجٹ کے بعد کی چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں۔

ہمارا سب سے اہم ٹیکسٹائل سیکٹر اب تک نارمل سیلز ٹیکس رجیم ہی کے جھٹکے سے نبرد آزما ہے، اوپر سے انہیں سترہ ارب روپے کے ریفنڈ کی بجائے کاغذ کے چند ٹکڑے بانڈز کی صورت تھما دیے گئے ہیں۔ کوئی بنک فی الحال ان بانڈز کو ڈسکاؤنٹ کرنے پہ تیار نہیں اور اگر ہو بھی جاتا ہے تو انٹرسٹ ریٹ کو دیکھتے ہوئے سولہ سے اٹھارہ فیصد کٹوتی لازمی ہے- نتیجہ یہ کہ ٹیکسٹائل کے صنعتکاروں کو اب سمجھ ہی نہیں آ رہی کہ جائیں تو جائیں کہاں اور کریں تو کیا کریں۔

آٹو انڈسٹری کو بھاری بھرکم ٹیکسوں کے ذریعے گھٹنوں کے بل گرا دیا گیا ہے- جون میں ختم ہونے والی سہ ماہی میں ٹویوٹا اور سوزوکی کے منافع میں ستر فیصد سے زائد کی کمی ہوئی ہے- اب سپئیر پارٹس کی انوینٹری کا ڈھیر لگ چکا ہے اور نئی گاڑیوں کے آرڈر نہ ہونے کے برابر۔ امپورٹڈ گاڑیوں کے تاجروں کا اس سے بھی برا حال ہے، پہلے جہاں وہ پانچ سے چھ گاڑیاں ہر ماہ آسانی سے منگوا لیتے تھے، نئے قوانین کی بدولت وہ ایک سے دو گاڑیوں پر آ گئے ہیں اور ان ایک سے دو گاڑیوں کے خریدار بھی اب ڈھونڈے سے نہیں مل رہے۔

مڈل کلاس میں ہزاروں لوگوں نے چھوٹی گاڑیاں نقد یا قسطوں پر خرید کر کریم اور اوبر جیسی رائڈ سروسز کے ساتھ لگا رکھی تھیں۔ اب لائف ٹائم ٹوکن کے ساتھ لائف ٹائم ٹیکس ٹھونک کر ان کا بھی بینڈ بجا دیا گیا ہے- دس ہزار کے لائف ٹائم ٹوکن کے ساتھ دس ہزار ٹیکس فائلر نے اور بیس ہزار نان فائلر نے بھرنا ہے- گزشتہ چند دنوں میں جس کیپٹن سے بھی بات ہوئی خان صاحب کو دلی دعائیں دیتا پایا گیا۔

زونگ اور ٹیلی نار کے لائسنسز کی معیاد اس سال ختم ہو رہی تھی۔ دونوں کمپنیوں نے کئی ماہ پہلے ہی رینیول کے لئے درخواستیں جمع کروا رکھی تھیں۔ اب پی ٹی اے نے انہیں نئے لائسنسز کے عوض ساڑھے چار سو ملین ڈالر فی کمپنی جمع کروانے کا حکم دیا ہے- دونوں کمپنیاں اس پر عدالت چلی گئی ہیں۔ 21 اگست کو ان دونوں کے لائسنس کی معیاد ختم ہونے جا رہی ہے- کمپنیوں کے معاملات جب ہماری عدالتوں میں چلے جائیں تو ڈر لگتا ہے کہ انجام پاکستان سٹیل ملز، ریکوڈک اور کارکے والا نہ ہو۔ برسبیل تذکرہ پی ٹی اے کے موجودہ سربراہ اس سے پہلے ایس کام کے سربراہ تھے۔ جناب ہی کے دور میں ایس کام نے گلگت میں زونگ کی فور جی سروس کے خلاف سٹے لیا تھا جو تاحال قائم ہے۔ اب پی ٹی اے ان دونوں کمپنیوں سے اپ فرنٹ ہنڈرڈ پرسنٹ پیمنٹ مانگ رہا ہے یا پھر پچاس فیصد ابھی اور باقی پانچ سال کی آسان اقساط میں بمع ہر سال کائبور پلس فور پرسنٹ انٹرسٹ پہ۔ کمپنیاں جبکہ سابقہ فیس پر لائسنسوں کی تجدید کروانا چاہ رہی ہیں۔ اللہ کرے کہ عدالت یا عدالت سے باہر کوئی تصفیہ جلد سے جلد ہو جائے۔

آئی پی پیز کا حال بھی اس سے مختلف نہیں۔ نیب کے ڈپٹی چیئرمین جناب چوہدری اصغر نے جو کہ وزیراعظم کے قرضہ تحقیقاتی کمیشن کے سربراہ بھی ہیں، دو ہفتے قبل آئی پی پیز کے نمائندوں کو اپنے دفتر بلا کر گزشتہ پانچ سال کے کھاتے نیب میں جمع کروانے اور اپنے ٹیرف پہ نظرثانی کرنے کا حکم جاری کیا ہے- دوسری جانب سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی کے ذریعے بھی ان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے- آئی پی پیز نے اس مسئلے پر پریس کانفرنس کر کے عالمی فورمز پر جانے کی دھمکی دے ڈالی تھی۔ خدا کرے اس کی نوبت نہ آئے۔

پیچھے کچھ بچتا نہیں ہے اور کچھ بھی نہ بچے اس کو یقینی بنانے کیلئے فیصلہ یہ کیا گیا ہے کہ اب ہماری قومی شاہراہوں پر ایکسل لوڈ کنٹرول سسٹم نافذ کیا جائے گا۔ اس کا فوری اثر یہ ہوگا کہ ملک بھر میں جو تین لاکھ ٹرک اور ٹرالرز سامان کی نقل و حمل میں مصروف ہیں، اتنے کم پڑ جائیں گے کہ ہمیں فوری طور پر دو لاکھ مزید کی ضرورت پڑے گی جو کہ گڈز ٹرانسپورٹرز کے مطابق پندرہ ارب ڈالر کا نسخہ ہے- جبکہ سیمنٹ، کھاد، آٹا، چینی، آٹو اور دیگر بڑی انڈسٹریز کی ٹرانسپورٹیشن کاسٹ تقریباً دگنی ہو جائے گی۔ جو ظاہر ہے ہم صارفین ہی کو بھگتنا ہو گی۔ سڑکوں کی تعمیر پہ صرف ہونے والے کروڑوں یا چند ارب بچانے کیلئے پورے ملک پہ سینکڑوں ارب کا اضافی بوجھ لادنے والے وژن کو سلام۔ متعلقہ انڈسٹری کے تمام ہی شعبوں نے مل کر وزیراعظم سے دست بستہ التماس کیا ہے کہ خدارا رحم کیا جاوے۔ اب دیکھیں کیا بنتا ہے-

انڈسٹری کے ساتھ یہ سب کاروائیاں کرنے کے ساتھ ساتھ حکومت ساڑھے پانچ ہزار ارب روپے کا ریوینیو ٹارگٹ مقرر کئے بیٹھی ہے۔ اس لطیفے پہ اب ہنسا جائے یا رویا جائے؟

متعلقہ مضامین