جنسی صحت کے لیے ضروری خوراک

محمد کاشف ۔ لندن

انگریزی کا مشہور مقولہ ہے 
You are what you Eat 
آپ وہ ہیں جو آپ کھاتے ہیں۔ 
خوراک کے تین بنیادی جزو ہیں۔ 
پروٹین، کاربوہائیڈریٹ اور فیٹ یعنی چربی۔


1۔ پروٹین
انسانی جسم میں مسل یا گوشت بنانے والا بنیادی جسم عنصر پروٹین ہے۔ تمام مسل اور اعضاء پروٹین سے بنتے ہیں۔ سو یہ جسم کی عمارت کی اینٹں ہیں۔ باقی سب اسی کے اردگرد گھومتا ہے۔ پروٹین والی غذاؤں میں
انڈے، دودھ، گوشت، بادام، تمام پھلی دار سبزیاں جیسے کہ مٹر اور لوبیا وغیرہ شامل ہیں۔


2۔ کاربوہائیڈریٹ یا نشاستہ  
تمام نشاستہ ہمارے جسم میں جا کر گلوکوز میں ٹوٹتا ہے۔ یہی بمارے جسم کا ایندھن ہے۔ جسم کی تمام طاقت نشاستے سے حاصل ہوتی ہے۔ آلو، اناج، میٹھا اور دالیں وغیرہ اس میں شامل ہیں۔


3۔ فیٹ یا چربی 
گھی، تیل مکھن یا چکنائی یہ سب فیٹ ہے۔ یہ بھی دو طرح کی ہیں۔ اچھی اور کسی حد تک بری، یا جس کی ہمیں کم ضرورت ہے۔ جمنے والے فیٹ جیسے کہ گھی اور چربی، یہ اچھی فیٹ نہیں۔ جبکہ تیل اور بیجوں میں پائی جانے والی فیٹ اچھی ہے۔

فیٹ سے تمام ہارمون بنتے ہیں۔ تمام مسلز کو آپس میں باندھنے اور جوڑے رکھنا بھی فیٹ کا کام ہے۔ 
تمام قسم کی خوراک میں کیلوریز ہوتے ہیں۔ کیلوریز آسان زبان میں انسانی جسم میں خوراک سے طاقت پیدا کرنے کی صلاحیت ہے۔ مثلا 
ایک گرام پروٹین میں چار 
ایک گرام نشاشتہ میں چار
ایک گرام فیٹ میں نو 


ایک صحت مند مرد کو ہر روز 2000 سے لے کر 2400 تک کیلوریز کی ضرورت ہوتی ہے۔ آپ کی خوراک کا تناسب ایسا ہونا چاہیے جو آپ کے جسم کے مطابق ہو۔ اگر آپ موٹے ہیں تو اپنی خوراک میں فیٹ دس فیصد کر دیں۔ اگر آپ کمزور ہیں تو فیٹ کو کچھ عرصے کے لیے چالیس فی فیصد تک بھی بڑھایا جا سکتا ہے۔ 


جسمانی کمزور حضرات جو کے جلد وزن بڑھانا چاہتے ہیں انہیں اپنی خوراک میں چالیس فیصد پروٹین، تیس فیصد نشاستہ اور تیس فیصد فیٹ رکھنے چاہئیں۔ گوگل پر جائیں، آپ ہر خوراک میں موجود کیلوریز کا آسانی سے پتہ کر سکتے ہیں۔ سو گرام گوشت گائے کا، اس میں تقریبا 22 سے 24 گرام پروٹین ہوتی ہے۔

فرض کریں آپ کا وزن 60 کلو ہے تو اپ کو ہر روز ڈیڑھ گرام فی کلو کے حساب سے 90 گرام پروٹین کی لازمی ضرورت ہے۔ آور زیادہ اچھے رزلٹ کے لئے دو گرام کے حساب سے 120 گرام روزانہ زیادہ بہتر ہے۔ ایک انڈے کی سفیدی میں 3 گرام پروٹین اور زردی میں 3 گرام فیٹ ہوتی ہے۔ اسی طرح مچھلی ہر سو گرام میں 18 سے 20 گرام ہوتی ہے۔

جانوروں سے حاصل پروٹین فری فارم پروٹین ہوتی ہے۔ پھلی دار پودے مٹر اور لوبیا وغیرہ میں branched chain amino acids ہوتے ہیں۔ یہ پروٹین دیر سے ہضم ہوتی ہے۔ تاہم سو گرام مڑ میں 5g فیصد اور لوبیے میں 20g تک ہوتی ہے۔

پروٹین کا بیلنس
فرض کریں ایک شخص 60 کلو کا ہے۔ اسے 90 گرام پروٹین کی ہر روز ضرورت ہے۔ اس میں 60 فی فیصد پروٹین جاندار ذرائع اور 40 فیصد نباتاتی ذرایع سے ہونی چائیے۔ یعنی 54 گرام جاندار اور باقی کی 34 گرام نباتاتی ہونی چائیے۔ اس تناسب سے آپ کا جسم پروٹین بیلنس برقرار رکھے گا اور جسم صحت مند رہے گا۔ 


جنسی طور پر کمزور حضرات یاد رکھیں ان کا حل صرف اور صرف ورزش اور زیادہ پروٹین اور فیٹ والی غذا ہے۔ اس لئے اس پوسٹ میں بھی پروٹین پر روز دیا گیا ہے۔ اگلی پوسٹ نشاشتہ اور فیٹ پر۔

(پاکستان ٹوئنٹی فور کے لیے جنسی صحت اور اچھی غذا پر یہ تحریری سلسلہ جاری رہے گا۔)

محمد کاشف لندن کی اینگلیا رسکن یونیورسٹی سے گریجویٹ ہیں۔ 25 برس سے باڈی بلڈنگ شوق ہے اور لندن میں ایک نجی فرم سے منسلک ہیں۔

متعلقہ مضامین