کابل میں کیا دیکھا

افغانستان کے دارالحکومت کابل کا ایک یہ ہمارا دوسرا دورہ تھا۔ چار روزہ دورے میں طالبان کی جانب سے قندور شہر پر قبضے کی خبر گردش کرتی رہی اور ملک و شہر کے حالات کا بخوبی اندازہ اس وقت بھی ہوا جب ایک راکٹ ہمارے سروں پر سے گزرا اور کچھ لمحوں بعد فضا میں دھماکے کی زور دار آواز گونجی۔


افغان امن عمل کے حوالے سے سفارتی سطح پر کوششیں تو میڈیا کی زبان اور آنکھ کے ذریعے آپ تک پہنچ ہی رہی ہوتی ہیں جو کچھ آپ تک تاحال نہیں پہنچ پایا اس بارے میں اپنے کچھ مشاہدات بیان کروں گی۔

پاکستان سے نوجوان میڈیا نمائندوں کا امن کے سفیروں کے طور پر یہ دوسرا کابل کا دورہ تھا۔ پہلے دورے میں ایک دوسرے کے خیالات و جذبات سے آگاہی ملی جبکہ اس دورے کا مقصد پالیسی گائیڈ لائن مرتب کرنا تھی کہ جس کے ذریعے افغان امن عمل میں میڈیا اپنا مثبت کردار ادا کر سکے۔ ویسے پاکستان میں اس کو مثبت رپورٹنگ بھی کہا جاتا ہے اور یہ بات زبان زد عام ہے۔

ہم کچھ مثبت پہلوؤں سے آشنا کرواتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان، مذہبی، علاقائی اور لسانی اعتبار سے کتنی مماثلتیں پائی جاتی ہیں اور ان کو بروئے کار لاتے ہوئے افغانستان میں قیام امن اور افغانستان کا بہتر تشخص اجاگر کرنے کیلئے میڈیا کیا کردار ادا کر سکتا ہے۔

اس دورے میں تمام ترتوجہ میڈیا رپورٹنگ پر مرکوز رہی ۔ جس طرح کی رپورٹنگ دونوں طرف سے جاری ہے اس کا فائدہ تو کیا ہو نقصان ہی نقصان ہے۔ ایک روز صبح افغانستان کے ایک بڑے اخبار کی شہ سرخی تھی، ”افغانستان میں حالیہ دہشتگردی میں پاکستان ملوث ہے“ جس کی ذمہ داری طالبان کی جانب سے قبول کر لی گئی تھی اور سارا دن ہماری بحث اس طرز کی رپورٹنگ پر رہی۔

دونوں ملکوں میں امن کے اس عمل کو مزید بہتر بنانے کے لیے اور تجویز پیش کی گئی. کوئی دو رائے اس بات پر نہیں کہ دونوں ممالک کی اسلامی، ثقافتی اور علاقائی مماثلتیں تو ہیں ہی لیکن ایک یہ دونوں ایک الگ اور آزاد ملک کی حیثیت بھی رکھتے ہیں. اسی لیے دونوں کی خارجہ پالیسی اپنے ہمسائے ممالک سے دیگر مختلف ہے. ہمیں اس حقیقت کو بھی قبول کرنا چاہیے. اور اپنے اپنے ملک میں امن قائم رکھنے کے لیے اپنی اپنی علاقائی جغرافیائی اعتبار سے ملک میں تجارت کو فروغ دینے کیلئے بھی پرامن فضا قائم کرنی چاہیے. تاکہ اپنی پیداوار کو بڑھایا جا سکے اور اپنی معیشت کو بھی مزید بہت بنایا جا سکے. اور جو دیگر ترقیاتی منصوبے رکے ہوئے ہیں ان کو بحال کر کے جلد از جلد مکمل کرکے اس سے مستفید ہوا جاسکے۔


معاشی بہتری اور علاقائی استحکام کے لیے ہمیں پیپل ٹو پیپل کمیونیکیشن پر بھی کام کرنا ہوگا. ایک دوسرے کو سمجھنے کیلئے ایک دوسرے سے بات کرنا روابط قائم کرنا بہت ضروری ہے۔ افغانستان میں روز 7 ہزار اور غالباً سال میں 7 لاکھ 40 ہزار افغانوں کو پاکستان کا ویزا دیا جاتا ہے. جس میں وہ پاکستان میں اپنے علاج، کاروبار اور تعلیم کے اعتبار سے آتے جاتے ہیں. لیکن اس خبر کو بھی نہ تو افغان میڈیا نے رپورٹ کیا اور معذرت کے ساتھ نہ ہی پاکستان میڈیا نے۔


پولیٹیکل اور سیکیورٹی حالات کو دیکھا جائے تو اس وقت افغانستان کے حالات یہ ہیں کہ امریکہ اپنی فوج کا انخلاء چاہتا ہے، بھارت نے کشمیر کی قانونی حیثیت بدلنے کی کوشش کی اور افغانستان کی جانب سے اس کا دھیان ہٹ چکا ہے۔ پاکستان کے بھی افغانستان کی جانب سے سیکورٹی خدشات موجود ہیں۔ باڑ کے علاوہ 2 لاکھ کے قریب فوج اس بارڈ پر لگا رکھی ہے۔ اور موجودہ صورتحال میں پاکستان کا سارا فوکس کشمیر پر ہے۔ ایک دوسرے خلاف محاذ آرائی کے بجائے افغانستان کو پاکستان کی سالمیت کے لیے اپنے بارڈر کا کنٹرول بہتر بنانا ہوگا اور کشمیریوں کے حق کے لیے آواز اٹھانا ہوگی۔

افغانستان کی حکومت کو چاہئیے کہ کشمیر پر اپنا موقف دنیا کے سامنے رکھے ، اپنی پہچان بنائے۔ وہ کہتے ہیں کہ بولو تاکہ پہچانے جاؤ۔

تو یہی وہ وقت ہے کہ افغانستان اپنے بارے میں سوچے ، اپنی اقتصادی صورتحال کو بہتر بنانے کی حکمت عملی ترتیب دے ، پاکستان کے سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ منصوبے میں اپنی دلچسپی ظاہر کرے ایران کی چاہ بہار بندرگاہ میں حصہ دار بنے، امریکہ اور بھارتی سے متاثرہ ذہینت سے بلند ہوکر اپنی سالمیت کے فیصلے کرے تاکہ حالات مزید بگڑنے کے بجائے بہتر ہوں۔ اگلے 10 سال سی پیک کے ہیں اور افغانستان کیلئے معاشی مضبوطی سب سے زیادہ ضروری ہے۔

چار روزہ دورے کے دوران ہم نے دو اہم تاریخی اور تفریحی مقامات کی سیر بھی کی. جس میں دارالامان وائٹ پیلس کا دورہ بھی شامل تھا. جسے افغانستان کے 100ویں یوم آزادی کے موقع پر عوام کیلئے کھولا گیا اور جس کی تعمیر نو جاری ہے اور اس کو مکمل ہونے کیلئے 6 ماہ درکار ہیں۔

اس کے علاوہ 1480 فٹ گہری اور خوبصورت جھیل "قارغہ” دیکھنے کا بھی اتفاق ہوا. یہاں کے دلکش نظارے اور لذیذ کھانے کابل کی ثقافت کی عکاسی کر رہے تھے. اس دورے کا ایک مقصد ہمیں افغان کلچر اور تاریخ کے بارے میں آگاہی دینا تھا اور ساتھ میں افغانی دوستوں کے ساتھ بے تکلفانہ انداز میں گفتگو کرنے کا بھی موقع ملا. جہاں انہوں نے بھی ہمارے ملک آ کر ہماری تاریخ اور ثقافت کو دیکھنے اور جاننے کی خواہش کا اظہار کیا۔

ہم انہیں تہہ دل سے خوش آمدید کہتے ہیں اور انشاءاللہ آنے والے وقتوں میں انہیں بھی پاکستان میں امن کے سفیر کے طور پر آتا دیکھیں گے.

متعلقہ مضامین