افغان مذاکرات پر پاکستانی و امریکی ردعمل

امریکہ اور افغان طالبان کے امن عمل کے لیے مذاکرات کی منسوخی پر پاکستان نے بھی ردعمل ظاہر کیا ہے اور امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ وہ امید کرتے ہیں کہ اب طالبان اپنا رویہ تبدیل کرکے طے شدہ باتوں پر عمل کریں گے۔

ایک امریکی ٹی وی چینل سے گفتگو میں مائیک پومپیو نے کہا کہ ’طالبان کے رویہ تبدیل کرنے کے بعد بات چیت سے یہ معاملہ حل ہو جائے گا، ہمیں ایک اہم اور پائیدار معاہدے کی ضرورت ہے۔‘

ادھراتوار کو رات گئے پاکستان نے اپنے رد عمل میں کہا تھا کہ ’پاکستان نے ہمیشہ پرتشدد کارروائیوں کی مذمت کی ہے اور تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ صبر و تحمل کے ساتھ امن عمل کو آگے بڑھایا جائے۔‘  

دفتر خارجہ کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان افغان عمل میں سہولت کار کا مخلصانہ کردار ادا کرتا رہا ہے۔

امریکی وزیرخارجہ کے مطابق اگر طالبان امن مذاکرات کے درمیان ہونے والے سمجھوتوں پر عمل نہیں کرتے تو صدر ٹرمپ دباؤ کم نہیں کریں گے اور امریکہ افغان سکیورٹی فورسز کی حمایت و تعاون جاری رکھے گا۔

مائیک پومپیو نے یہ کہا کہ افغانستان سے امریکی افواج کا انخلاء صرف باتوں نہیں بلکہ حقیقی شرائط اور زمینی حقائق کی بنیاد پر ہی ہو گا۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق ’پاکستان حالیہ صورتِ حال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور اپنے اصولی پالیسی مؤقف کا دوبارہ اعادہ کرتا ہے کہ افغان تنازع کا حل فوجی نہیں بلکہ سیاسی ہے۔ پاکستان زور دیتا ہے کہ تمام فریقین دوبارہ مذاکرات کی میز پر افغان مسئلے کا سیاسی حل جلد تلاش کریں۔‘

دفتر خارجہ کے مطابق افغانستان میں امن کے لیے پاکستان مذاکرات کی جلد از جلد بحالی کا خواہاں ہے۔

یاد رہے کہ اتوار کو امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے افغان امن مذاکرات کی منسوخی کے اعلان کے بعد طالبان نے اپنے ردعمل میں کہا تھا کہ اس کا سب سے زیادہ نقصان امریکہ ہی کو ہوگا۔

متعلقہ مضامین