حکومت اور الیکشن کمیشن آمنے سامنے

تحریر: عبدالجبارناصر

الیکشن کمیشن آف پاکستان اور حکومت ایک دوسرے کے مد مقابل آگئے ہیں اورملک میں نیا بحران سامنے آرہا ہے ۔ 22 اگست کو صدر پاکستان نے بطور سندھ اور بلوچستان سے بالترتیب خالد محمود صدیقی اورمنیر احمد کاکڑ کو الیکشن کمیشن کا ممبر تعینات کیا ۔چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار محمدرضانے ان ارکان کی تقرری کو آئین کے آرٹیکل 213 کے خلاف قراردیتے ہوئے ان سے حلف نہیں لیا ۔ حکومت چیف الیکشن کمشنر آف پاکستان کے اس عمل سے شدید ناراض ہے۔چیف الیکشن کمشنر کے عمل کے خلاف وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کہا ،مگر ابھی تک حکومت نے عدالت عظمیٰ میں ایسی کوئی درخواست نہیں دی ہے، تاہم اس حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک وکیل جہانگیر خان جدون کی درخواست زیر سماعت ہے۔

اب یہ اطلاعات آرہی ہیں کہ حکومت چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار محمدرضا کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے پر غور کر رہی ہے۔ سینیٹ کے سابق چیئرمین اور آئینی ماہر میاں رضا ربانی کا کہنا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر نے آئین آرٹیکل 213(3) کے مطابق آئین کے تقاضے پورے کرتے ہوئے حکومتی ارکان سے حلف لینے سے انکار کیا اور اپنی آئینی زمہ داری پوری کی ہے، اگر جسٹس (ر)سردار محمدرضا کے خلاف ریفرنس بنایا گیا تو وہ قابل عمل نہیں ہوگا۔

میاں رضا ربانی کا کہنا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 213 (۲الف )اور(۲ب)میں الیکشن کمیشن کے ارکان کی تقرری کا پورا آئینی طریقہ موجود ہے اور اس میں صدر کا کوئی کردار نہیں ہے۔ اسی طرح آئین کے آرٹیکل 214 میں حلف کا طریقہ بھی واضح ہے۔حکومت نے اب یہ روایت بنائی ہے کہ جو آواز اٹھاتا ہے اسکی آواز بند کی جاتی ہے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ہو یا میڈیا رفرنس یا اب چیف الیکشن کمشنر آواز دبائی جاتی ہے۔

نائب امیر جماعت اسلامی و سیکرٹری ملی یکجہتی کونسل پاکستان لیاقت بلوچ کا کہنا ہے کہ حکومت سیاسی ،جمہوری،پارلیمانی اور آئینی حدود توڑ رہی ہے، حکومت کا یہ طرز عمل آئینی،سیاسی جمہوری اور پارلیمانی عمل کے خلاف ہے۔فاضل ججوں کو زیر کرنے کی سازش کے بعد اب الیکشن کمیشن کو فتح کیا جارہا ہے۔چیف الیکشن کمشنر کے خلا ف جوڈیشل ایفرنس کا عندیہ صریحاً آمرانہ اور غیر جمہوری رویہ ہے۔ممبران الیکشن کمیشن کی آئین کے مطابق تقرری میں ناکامی پر مزید غیر آئینی اقدامات رسوائی کا سودا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر سردار محمدرضا کے خلاف حکومت نے کوئی ریفرنس دائر کیا تو خود حکومت مشکل میں پھنس سکتی ہے اور خطرہ ہے کہ آئینی بحران پیدا نہ ہوجائے۔ حالیہ چند ماہ کے دوران وفاقی حکومت کے بعض اقدام قانونی طور پر خود حکومت کے لئے مشکلات کا باعث بنے ہیں ،جن میں حج کے دوران سندھ میں آئین کے آرٹیکل 104 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قائم مقام گورنر کی تقرری اوراسپیکر سندھ اسمبلی کے ردعمل پر پھر نوٹیفکیشن سے دستبرداری۔ الیکشن کمیشن کے دو ممبران کی تقرری کے حوالے آئین کے آرٹیکل 213 کی کھلی خلاف ورزی اور چیف الیکشن کمشنر کا سخت جوابی ردعمل۔ 208 ارب روپے معافی صدارتی آرڈیننس اورسخت ردعمل پرواپسی کا اعلان۔ جسٹس فائز عیسیٰ اور جسٹس کے کے آغا کے خلاف ریفرنس اور وفاقی وزیر قانون بیریسٹر فروغ نسیم کی جانب سے کراچی میں آئین کے آرٹیکل 149 کے تحت وفاق کے عمل کی بات کرنے سے حکومت کو بد نامی کا سامنا ہوا ہے۔

کراچی کے حوالے سے وفاقی وزیر کے بیان نے سندھ میں حکومت مخالف فضا بنادیا ہے ، اس وقت خود حکومتی اتحادی گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس (جی ڈی اے) سراپا احتجاج ہے ۔ وفاقی وزیر قانون کے اس بیان نے سندھ میں پیپلزپارٹی کی پوزیشن کو مستحکم اور تحریک انصاف اور ا س کے اتحادیوں کی پوزیشن کو کمزور کیا ہے۔

اب اگر الیکشن چیف الیکشن کمشنر کے خلاف ریفرنس دائر کرتی ہے تو نہ صرف عوامی بلکہ عدالتی سطح پر بھی سخت مشکل پیدا ہوسکتی ہے، چیف الیکشن کمشنر خود سپریم کورٹ کے سابق جج ہیں اور انہوں نے حلف نہ لینے کا فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا ہوگا۔اس لئے حکومت کو کسی بحران سے گریز کرنا چاہئے اور وزیر اعظم عمران خان کو یہ بھی غور کرنا چاہئے کہ وہ کونسی قوتیں یا افراد یا فرد ہے جو بار بار حکومت کے لئے سبکی کا سامان پیدا کرتاہے ۔

متعلقہ مضامین