روٹھے ہوئے ججز کا بینچ

قمبر زیدی ۔ صحافی @QamberZOfficial

جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف ریفرنس کے معاملے کی کھلی عدالت میں سماعت ہوئی تو بہت ساری پس پردہ باتیں کھل کر سامنے آگئیں۔ سپریم جوڈیشل کونسل میں جب یہ کیس چل رہا تھا تو ججز کے درمیان اختلاف کی باتیں محض قیاس آرائیاں ہی سمجھی جاتی رہیں۔

حال ہی میں ریٹائر ہونے والے سپریم کورٹ کےجسٹس شیخ عظمت سعید جو کہ سپریم جوڈیشل کونسل کا بھی حصہ تھے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں کہہ چکے تھے کہ وہ نہیں چاہتے جسٹس قاضی فائز عیسی کا معاملہ ان کی ریٹائرمنٹ سے پہلے طے ہو وجہ اس کی سیدھی سی ہے، جسٹس عظمت کا جسٹس قاضی فائز عیسی سے اچھا تعلق تھا۔

گزشتہ روز سپریم کورٹ میں جب قاضی فائز عیسی ریفرنس کیس کی سماعت ہوئی تو ایک اور جج نے تعلق کی بناء پر بنچ میں بیٹھنے سے انکار کر دیا۔

جسٹس طارق مسعود جو کہ سپریم کورٹ کے انتہائی نفیس جج تصور کیے جاتے ہیں سماعت کے دوران بے چین نظر آئے اور سماعت میں وقفہ ہونے سے قبل ہی ساتھ بیٹھے جسٹس مقبول باقر کو کان میں سرگوشی کی۔ شاید کہہ گئے ہوں کہ سات رکنی بنچ کو ہیڈ کرنے والے جسٹس عمر عطا بندیال کو بتا دیں میں اس بنچ کا حصہ نہیں بننا چاہتا، ججز کہ درمیان کچھ سرگوشی ہوئی اور وقفے سے پانچ منٹ پہلے ہی بینچ اٹھ گیا۔
سپریم کورٹ میں معمول کہ مطابق دن گیارہ بجے سے ساڑے گیارہ تک بریک سیشن ہوتا ہے، مگر جسٹس قاضی کے معاملے کی شدت کا اثر یہ ہوا کہ یہ بریک معمول سے ہٹ کر پورے ایک گھنٹے تک چلا، بارہ بجے جب بنچ آیا تو ججز کی باڈی لینگویج سے ہی صحافیوں سمیت تمام وکلاء کو اندازہ ہو گیا کہ اب یہ بنچ ٹوٹ جائے گا۔

بنچ ٹوٹنے کی کوئی ایک وجہ نہیں بلکہ متعدد وجوہات ہیں سب سے پہلی وجہ جسٹس طارق مسعود کا انکار کرنا، جس کا اظہار انہوں نے بریک سے واپس آتے ہی ان الفاظ میں کیا
“میں نے پہلے سے بینچ سے علیحدگی کیلیے ذہن بنا رکھا تھا” اس علیحدگی کی وجوہات ہوسکتا ہے اور بھی ہوں مگر ایک بڑی وجہ انکار جسٹس قاضی فائز عیسی کے ساتھ تعلق ہے.

جسٹس قاضی فائز عیسی ایک آزاد اور خود مختار سوچ کے مالک ہیں وہ کسی پر زیادہ انحصار نہیں کرتے اور سپریم کورٹ میں بہت کم ایسے ججز ہیں جن کی ان سے بنتی ہے۔ان میں سے ایک جسٹس طارق مسعود بھی ہیں۔ ایک اور ایسے جج ہیں جنہوں نے سماعت سے کل انکار کیا جو بنچ ٹوٹنے کا باعث بنا وہ انکار کیوں کیا گیا اس کے پیچھے اختلاف کی ایک کہانی ہے لیکن کہانی جاننے سے پہلے پس منظر سن لیجیے۔

گزشتہ روز سماعت کے آغاز میں سات رکنی بنچ کے ہیڈ جسٹس عمر عطا بندیال بڑے پر مسرت انداز میں جسٹس فائز عیسی کے وکیل منیر اے ملک سے ہمکلام ہوئے “مجھے خوشی ہوئی کہ آپ عدالت آئے ہمیشہ کی طرح اپ کے دلائل سے لطف اندوز ہونگا” لیکن یہ خوشی چند ساعتوں بعد ہی جسٹس عمر کہ چہرے کا رنگ تبدیل کر گئی جب منیر اے ملک نے دلائل دیتے ہوئے بنچ پر اعتراض اٹھا دیا اور کہا کہ جن ججز کہ مفادات اس کیس سے جڑے ہیں وہ اس بنچ کا حصہ نہ ہوں۔ اس بنچ میں دو ایسے ججز تھے جن کے کرئیر کو یہ کیس فائدہ پہنچا سکتا تھا۔ جسٹس طارق مسعود اور جسٹس اعجاز الحسن ان دونوں نے سپریم کورٹ کا چیف جسٹس بننا ہے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا تعین سنیارٹی کی بنیاد پر ہوتا ہے اگر جسٹس فائز عیسی سپریم کورٹ رہے تو پہلے انہوں نے چیف جسٹس بننا ہے اور اس کے بعد جسٹس اعجاز الحسن نے، جسٹس عمر عطا نے جب یہ دلائل سنے تو ناراض ہوگئے اور پوچھا کہ "کونسے عوامل سے جج کی جانبداری ثابت ہوتی ہے؟ اس عدالت کا ہر جج اپنی ذمہ داری آئین اور قانون کے مطابق ادا کرتا ہے.اس عدالت کے کسی جج کا کسی مقدمے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے.جج کی جانبداری کا کہہ کر اپ غلط جانب جا رہے ہیں.”
جسٹس بندیال نے یہیں بس نہیں کی بلکہ کہا کہ عدالت ججز پر تعصب یا جانبداری کے اس نکتے پرمزید دلائل سننا چاہتی ہے. ادھر جسٹس منیر اے ملک جو کہ ایک قابل وکیل ہیں ذرا نہیں گھبرائے، آواز تھوڑی بلند کی اور بولے
” دو ججز کا براہ راست مفاد ہے.
چیف جسٹس بننے سے ان کی تنخواہ بڑھے گی،جن ججز نے چیف جسٹس بننا ہے. ان کی دلچسپی ہے. یہ بات وہ آزاد عدلیہ کے مفاد میں کر رہے انصاف صرف ہونا نہیں چاہیے۔قانون کے مطابق ہوتا دکھائی دینا چاہیے”.
منیر اے ملک کے تیور اور تھے سوجسٹس عمر عطا بندیال نے پھر تحمل کے ساتھ جواب دیا کہ” جسٹس خواجہ کا فیصلہ موجود ہے.اس فیصلہ کے مطابق جج بطور جج کسی کو نہیں جانتا آپ کیسے تشریح کرسکتے ہیں کہ اس کیس میں متعصبانہ سوچ ہے،کوئی یہ نہیں جانتا کہ کل کوئی زندہ رہے گا،آپ کیسے آئندہ سالوں کی بات کرتے ہیں،آپ کو اداروں کو مضبوط کرنے کے لیے کھڑا ہونا چاہیے،آئندہ چار سالوں کے مفروضے پر بات نہ کریں،”

میرا خیال ہے کہ جسٹس عمر عطا بندیال کا غصہ جائز تھا کیونکہ وہ عدلیہ کو بطور ایک مضبوط ادارہ دیکھنا چاہتے ہیں اور زرائع کے مطابق انہوں نے تمام ججز کو رضامند کرنے کی کوشش بھی کی تاکہ یہ بنچ نہ ٹوٹے اور لوگوں تک اختلاف کی خبریں یا برا تاثر نہ جائے۔لیکن سمجھ بوجھ رکھنے والے جانتے ہیں منیر اے ملک اور یہ اعتراض جسٹس عمر بندیال کے لئے نہیں بلکہ قانونی وجہ سے تھا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے خاموشی کے ساتھ تمام سماعت سنی لیکن بریک کہ بعد آئے تو دل کی بات کیے بغیر نہ رہ سکے جسٹس اعجازالاحسن اپنے ساتھ پر چی پر کچھ لکھ کہ لائے تھے بھری عدالت کو اپنی طرف متوجہ کیا۔اور یہ کہا کہ "میں بھی کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں،بدقسمتی سے ہمارے ساتھی جج کیجانب سے اٹھائے گئے اعتراضات افسوس ناک ہیں،میں نے بطور جج قانون پر عمل درامد کرنے کا حلف اٹھایا ہے،ساتھی جج کا اعتراض بلا جواز اور نامناسب ہے ، درخواست میں اٹھائے گئے اعتراض پر نہیں بلکہ اپنی منشاء کے مطابق بینچ سے علیحدہ ہو رہا ہوں،بطور جج ہم نے بلا خوف و خطر انصاف کی فراہمی کا حلف اٹھا رکھا ہے،
ہم نے حلف اٹھا رکھا ہے کہ بطور جج ہمارا کنڈکٹ درست ہو گا”.

جسٹس اعجاز الاحسن نے یہ چند جملے بول دیئے مگر ججز کے درمیان اختلافات اور بنچ ٹوٹنے کی وجوہات اب کھل کر سامنے آچکی تھیں۔منیر اے ملک نے معاملے کو ٹھنڈا کرنے کہ لئے جب کہا کہ "میں اپنے موکل کی طرف سے ایک بات واضح کر دینا چاہتا ہوں،کہ میرے موکل ذاتی طور پر کسی جج کو متعصب نہیں سمجھتے” منیر اے ملک کا اتنا کہہ دینا کافی نہیں تھا.
جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا "موکل کو چھوڑیں اپنی بات کریں”.
پاکستان بار کونسل کہ عہدے داران کے چہروں پر مسکرائٹ تھی لیکن کورٹ کا مجموعی ماحول نا خوشگوار تھا۔معاملہ پھر ایک بار چیف جسٹس کہ پاس چلا گیا ۔چیف جسٹس جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کی سماعت کہ لئے اب نیا بنچ جلد تشکیل دیں گے۔

متعلقہ مضامین