جمہوری حکومت، فوجی ٹھیکے پر

محمد اشفاق ۔ تجزیہ کار

سوچا یہ گیا تھا کہ ملک کو ایک صاف ستھری، ایماندار اور ہینڈسم قیادت دے کر خلیل خان خود فاختہ اڑایا کریں گے۔ فاختہ مگر اڑ رہی ہے نہ انڈے دے رہی ہے، نہ ہی بچوں کو دانہ کھلا رہی ہے- اس لئے اب آئے روز ہمیں یہ پرمسرت نظارے دیکھنے کو ملتے ہیں کہ ٹیکسٹائل سیکٹر کے ریفنڈز کا معاملہ آبپارہ بیٹھ کر حل ہو رہا ہے- تاجروں اور ایف بی آر کے مذاکرات نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے میجر جنرل صاحب کی ماڈریشن میں ہو رہے ہیں اور صنعتی اور تجارتی طبقہ اپنے تحفظات لے کر جی ایچ کیو کے پھیرے لگا رہا ہے- اور حکومت یہ سب دیکھتے ہوئے جمعہ کو یوم یکجہتی کشمیر منانے کا اعلان کر رہی ہے۔

مملکت خداداد پر یہ وقت پہلی مرتبہ نہیں آیا، اور ہمارے محافظوں کے حوصلے سلامت رہیں، نہ ہی یہ آخری بار ہے۔ پریشانی اس بات کی ہے کہ ماضی بعید و قریب میں ہمارے پاس انگریزی محاورے کے مطابق کچھ نہ کچھ ایسا ہوتا تھا جو ہمیں گرتے سمے دھچکے سے بچا لیا کرتا تھا۔ فاتح واشنگٹن و نیویارک کی سوا سالہ حکومت نے ہمیں یکے بعد دیگرے تقریباً تمام کشنز سے محروم کر دیا ہے- اور ہمارے لڑھکنے کی موجودہ رفتار کچھ عرصہ مزید برقرار رہی تو ہمیں نیپال اور بھوٹان والوں کی ڈرائیوری بھی کرنا پڑ سکتی ہے-

موجودہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ہم آئی ایم ایف سے وعدہ کئے بیٹھے تھے کہ ایک ہزار اکہتر ارب روپے کے محصولات اکٹھے کر کے دکھائیں گے۔ ستر ارب کے ٹیکس ریفنڈز جاری کریں گے اور گردشی قرضوں میں 23 ارب سے زائد کا اضافہ نہیں ہونے دیں گے۔

محصولات میں ہمیں پہلی سہ ماہی میں ہی ایک سو چودہ ارب کی کمی درپیش ہے۔ اس کا سیدھا اور آسان سا مطلب یہ ہے کہ 55 سو ارب کے ہدف کے حصول کی خاطر ہمیں بقایا نو ماہ میں سے ہر ایک مہینے پانچ سو چار ارب روپے اکٹھے کرنا ہوں گے۔ ایف بی آر کے ماضی و حال کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے مستقبل کا اندازہ آپ خود ہی لگا لیجئے۔

ستر ارب کے ریفنڈز میں سے جناب شبر زیدی سولہ ارب روپے ہی جاری فرما پائے ہیں اور اسے بھی اپنا کارنامہ گنوانے پر مصر ہیں۔ گردشی قرضوں میں اب تک کے اندازے کے مطابق تین ماہ میں ساٹھ ارب کا اضافہ ہو چکا ہے- اسے کم کرنے کیلئے حکومت پاور سیکٹر کو مزید سب سڈیز دینے کا نیک ارادہ رکھتی ہے اس لئے آپ دو ماہ میں بجلی کی قیمت ڈھائی روپے یونٹ بڑھا دیے جانے کو ابتدائے عشق سمجھ کر رونے سے گریز کیجیے۔ اور ابھی نومبر میں گیس کے ٹیرف پر ایک اور نظرثانی ہونا بھی آئی ایم ایف سے معاہدے میں شامل ہے-

اکتوبر میں فیٹف نے ہمارے مقدر کا ایک اور فیصلہ کرنا ہے- بدخواہوں نے ابھی سے اعمال نامہ ہمارے بائیں ہاتھ میں تھمائے جانے کی پیشنگوئیاں شروع کر رکھی ہیں مگر امریکا رحمت کی ایک نظر ڈال دے تو ہمارا بیڑا پار ہو سکتا ہے- افغان مذاکراتی عمل اب "ہم ہیں مشتاق اور وہ بیزار” کی عملی تفسیر بن چکا ہے۔ وہ جو امریکی ہاتھی کو مزید پانچ سال مرچوں کی دھونی دینا چاہتے تھے، اب مذاکرات کی بحالی کے لیے ملکوں ملکوں مارے مارے پھر رہے۔ ہمارے ہاں ان کی آمد خدا کرے کہ نیک شگون ثابت ہو۔ حقیقت پسندانہ اندازہ مگر یہی ہے کہ ہمیں فی الحال گرے لسٹ ہی میں رکھا جائے گا۔ اس کے نتیجے میں ہمیں ورلڈ بنک، اے ڈی بی اور آئی ایم ایف سے ملنے والی امداد متاثر تو نہیں ہوگی مگر اس کے لیے شرائط مزید سخت ہو سکتی ہیں۔

ہم نے اپنی پہلی سہ ماہی کے اہداف مس کر دیے ہیں اور ہم نے پچھلا بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا آٹھ اعشاریہ ایک فیصد دکھا کر اسے سات اعشاریہ آٹھ فیصد پر لانے کی حامی بھری تھی جبکہ ہمارا اصل خسارہ آٹھ اعشاریہ آٹھ فیصد نکلا جس کے نتیجے میں ہمارے موجودہ مالی سال کے بیشتر اہداف غیر حقیقی اور ناقابل حصول ہو چکے ہیں۔ دسمبر میں لہٰذا امکان یہی ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ ہمیں اپنے تمام اہداف پر نظرثانی کرنا پڑے گی اور ساتھ ہی ویور دینے کی التجا بھی۔ ان دونوں معاملات پر آئی ایم ایف ہمارے ساتھ رحمدلی کا برتاؤ کرے گا مگر ہمارے نسخے میں مزید کڑوی گولیوں کا اضافہ کرنے کے بعد۔

یہ وہ میکرواکنامک صورتحال ہے عوام الناس جس میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے انہیں روزانہ گھروں میں اور گھروں سے باہر کچھ مائیکرو اکنامک انڈیکیٹرز دکھائی دیتے اور بخوبی سمجھ میں آتے ہیں جن کی بنیاد پر وہ حکومت وقت کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ کرتے ہیں۔ عوام اپنا فیصلہ کر چکے اور اب میڈیا، عدلیہ اور فوج میں آپ کو اسی فیصلے کی جھلکیاں دکھائی دینا شروع ہو چکی ہیں۔

فوج کا معاملہ زیادہ نازک اس لیے ہے کہ حکومت بنتی تو ہمیشہ ان کی آشیرباد ہی سے ہے مگر یوں کھلم کھلا اور کافی حد تک اعلانیہ اپنا وزن کسی ایک سیاسی جماعت کے پلڑے میں ڈالنے کی حماقت ان سے پہلی مرتبہ ہوئی ہے۔ اوپر سے جناب چیف صاحب اکنامک ڈویلپمنٹ کونسل میں شمولیت اختیار کر کے یہ امر یقینی بنا چکے کہ حکومت کی ہر معاشی ناکامی پر انہیں اور ان کے ادارے کو بھی عوام سے برابر کی داد ملتی رہے۔ طرفہ ستم جناب کی ایکسٹنشن کے فیصلے نے ڈھایا ہے۔ آپ کے کنارے لگ جانے کی صورت میں کم از کم ادارہ کڑی تنقید سے بچ جاتا۔ اب اندر بھی لوگ بجا طور پر اسی طرح مضطرب ہیں جس طرح باہر۔ چنانچہ انگریزی محاورے کے مطابق چیف صاحب کو بھی اب گرمی محسوس ہو رہی ہے- کمرشل پلاٹس تین سال تو منہ بند کروانے سے رہے، ابھی تو کم بخت مارا نومبر بھی نہیں آیا اور خمار اترنے لگا۔ اب ان دو ماہ میں آپ کو کافی چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں دکھائی دیں گی، مگر عوام جس بڑی تبدیلی کی آس لگائے بیٹھے وہ ہنوز مانند دلی، دور است۔

عوام الناس کو فی الحال اسی بات پر شکر بجا لاتے رہنا چاہیے کہ ان کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے۔ کل ہی وفاقی کابینہ نے سولہ ارب کے کرتار پور کاریڈور کا ٹھیکہ بغیر ٹینڈر کے ایف ڈبلیو او کو دینے کیلئے پیپرا رولز سے استثنیٰ لینے کا فیصلہ کیا ہے- خدا کی شان ملاحظہ فرمائیں جنہوں نے ہماری سرحدیں ناقابل عبور بنانا تھیں وہی ہماری سرحدوں میں ایکسپریس وے بنانے جا رہے۔ بیشک اللہ الحق ہے- اس میں بھلا کس کو شک ہے؟

متعلقہ مضامین