مخالفین کے لیے چینی نظام کے خواہشمند

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر کہا ہے کہ ملکی قوانین اور پیچیدہ طریقہ کار کی وجہ سے وہ کرپشن کے مرتکب افراد کو جیل میں ڈالنے سے قاصر ہیں۔

انہوں نے چین میں کمیونسٹ پارٹی کے انداز حکمرانی کو سراہتے ہوئے خواہش ظاہر کی ہے کہ کاش ان کے پاس بھی لامحدود اختیارات ہوتے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ بیورو کریسی اور سرخ فیتہ ہی کرپشن کو فروع دیتا ہے۔

عمران خان کے مطابق دنیا بھر کے سرمایہ کار ہمیشہ شفاف تر اکانومی میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ ’کاش میں صدر شی کی مثال کو فالو کرتا اور 500 لوگوں کو جیل میں ڈالتا۔‘

  ‘لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں بڑا پیچیدہ پراسیس ہے اور امید ہے ہم اسے بہتر بنائیں گے۔‘

اپنے خطاب میں عمران نے کہا کہ ’ہم نے دیکھا کہ چین نے کس طرح جدوجہد کی اور اپنی غلطیوں سے سیکھا اور آج چین دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی معیشتوں میں سے ایک ہے۔‘

بیجنگ میں عالمی تجارت کے فروغ کے لیے قائم چائنہ کونسل میں ’پاکستان اور چین کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع‘ کے موضوع پر منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی وزیراعظم نے کہا کہ کرپشن کسی بھی ملک میں ہونے والی سرمایہ کاری کو روکتی ہے۔   

 ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے اپنے خطاب کے دوران چین کی کمپنیوں کو تعمیرات، ٹیکسٹائل، انفارمیشن ٹیکنالوجی، مالیاتی خدمات، فزیکل اور ٹیکنالوجیکل لاجسٹکس، زراعت، تیل و گیس اور سیاحت سمیت پاکستان کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی ہے۔

وزیراعظم نے کہا ہے کہ پاکستان میں کاروبار کے وسیع مواقع ہیں اور چین کی کمپنیوں کے لیے پاکستان میں سرمایہ کاری کا یہ بہترین وقت ہے۔

 انہوں نے یقین دلایا کہ وزیراعظم آفس سی پیک سمیت تمام بڑی سرمایہ کاریوں کے معاملات دیکھے گا۔ ’ہم نے تمام مسائل حل کرنے کے لیے سی پیک اتھارٹی قائم کی ہے۔‘

انہوں نےکہا کہ گوادر سمارٹ پورٹ سٹی کے ماسٹر پلان کی منظوری دے دی گئی ہے اور گوادر کے ہوائی اڈے پر تعمیراتی کام جاری ہے، اسے جلد مکمل کیا جائے گا۔

عمران خان نے مزید کہا کہ ’کرپشن ملک میں آنے والی سرمایہ کاری کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں اور سرخ فیتے کی وجہ سے پاکستان کو ترقی دینے میں ناکام ہوئے۔‘

متعلقہ مضامین