متفرق خبریں

لاڑکانہ، جمعیت اور تحریک ایک ہی امیدوار کی حامی

اکتوبر 15, 2019 3 min

لاڑکانہ، جمعیت اور تحریک ایک ہی امیدوار کی حامی

Reading Time: 3 minutes

بھٹو کے لاڑکانہ میں دلچسپ انتخابی معرکہ!
پی ٹی آئی وجے یو آئی ایک ہی امیدوار کی حامی!!

رپورٹ: عبدالجبارناصر

پیپلزپارٹی کے گڑھ لاڑکانہ میں ضمنی انتخاب کے لئے سندھ اسمبلی کے حلقہ پی ایس 11 کا میدان سج گیا، پیپلزپارٹی اور اپوزیشن کے 9 جماعتی اتحاد کے مابین ون ٹو ون مقابلے کی تیاری کر رہا ہے۔

پیپلزپارٹی نشست کے حصول اور اپوزیشن جماعتوں کا لاڑکانہ عوامی اتحاد نشست کو بچانے کے لئے کوشاں ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ تحریک انصاف اور جمعیت علماء اسلام موجودہ کشیدگی کے باوجود ایک ہی امیدوار کی کامیابی کے لئے کوشاں ہیں، 1263 افراد پر مشتمل انتخابی عملہ پولنگ کی نگرانی کرے گا اور 4ہزار سے زائد سیکیورٹی اہلکار تعینات ہونگے ، انتخابی مہم 15اکتوبر(آج) رات 12 بجے ختم ہوگی اور پولنگ 17 اکتوبر کو ہوگی۔

سندھ اسمبلی کا حلقہ پی ایس11 لاڑکانہ بنیادی طور لاڑکانہ شہر پر مشتمل حلقہ ہے ۔1970ء سے 2018ء تک لاڑکانہ پیپلزپارٹی کا ہی رہا ہے تاہم پی ایس 11 کا حلقہ دو بار پیپلزپارٹی ہار چکی ہے ۔ 1993ء کے عام انتخابات میں ذوالفقارعلی بھٹو کے فرزندمیرمرتضیٰ بھٹو نے پیپلزپارٹی کے امیدوار کو شکست دی اور 2018ء کے عام انتخابات میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی قریبی ساتھی ناہیدخان کے قریبی عزیر اور پیپلز پارٹی کے سابق رکن سندھ اسمبلی حاجی منور علی عباسی کے فرزند معظم علی عباسی نے لاڑکانہ عوامی اتحاد کے پلیٹ فارم سے گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس کے ٹکٹ پر پیپلز پارٹی کو شکست دی۔

لاڑکانہ عوامی اتحاد 9 جماعتوں (مسلم لیگ فنکشل ، جمعیت علماء اسلام، تحریک انصاف ، پیپلز پارٹی ورکرز، پیپلزپارٹی شہید بھٹو اور دیگر)پر مشتمل ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ جمعیت علماء اسلام اور تحریک انصاف میں موجودہ شدید ترین کشیدگی کے باوجود دونوں جماعتیں ایک ہی امیدوار معظم علی عباسی کی حمایت کر رہی ہیں ۔ اس حلقے میں جمعیت علماء اسلام کا نہ صرف مضبوط ووٹ بنک ہے بلکہ 1970ء سے ہمیشہ جمعیت علماء اسلام ہی اس حلقے میں پیپلزپارٹی کا مقابلہ کرتی رہی ہے۔

جمعیت علماء اسلام کے مولانا راشد محمود سومرو کا کہنا ہے کہ ہم پیپلز پارٹی کی جانب سے آزادی مارچ حمایت پر اس کا شکریہ ادا کرتے ہیں ، تاہم ضمنی میں ہم لاڑکانہ عوامی اتحاد کے فیصلے اور معاہدے کے پابند ہیں ۔ہمارا گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس یا تحریک انصاف سے کوئی اتحاد نہیں ہے ،ہم لاڑکانہ عوامی اتحاد کاحصہ ہیں اور انکے اتحادی ہونے کے ناطے انکے فیصلوں کے پابند ہیں اورمعظم علی عباسی لاڑکانہ عوامی اتحاد کے امیدوار ہیں ۔2018ء کے عام انتخابات میں لاڑکانہ عوامی اتحاد کے پلیٹ فارم پر 9 جماعتیں جمع تھیں اور انتخابات میں ایک دوسرے کی حمایت کی اور اسی معاہدے کی بنیاد پر ہم معظم علی عباسی کی حمایت کر رہے ہیں۔ مولانا راشد محمود سومرو کے مطابق پیپلز پارٹی نے لاڑکانہ میں ہونے والے ضمنی الیکشن کے حوالے سے ہم سے تعاون کے لئے کوئی درخواست نہیں کی ہے۔

مبصرین کے مطابق جمعیت علماء اسلام اگر پیپلزپارٹی کی حمایت کرتی تو پیپلزپارٹی کے ڈاکٹر جمیل سومرو یہ نشست آسانی کے ساتھ جیت لیتے مگر اب مقابلہ سخت ہونے کا امکان ہے ۔الیکشن کمیشن نے سندھ اسمبلی کے حلقہ پی ایس 11 لاڑکانہ کے ضمنی انتخابات کے لئے تمام تیاری مکمل کرلی ہے ۔

الیکشن کمیشن کے مطابق مجموعی طور پر 138پولنگ اسٹیشن قائم کئے گئے ہیں ،جن میں سے 44 مردوں ، 44 خواتین اور 50 مخلوط ہیں اور ان میں سے 20 انتہائی حساس ، 50حساس اور 68نارمل ہیں ۔ ڈسٹرکٹ ریٹر ننگ آفسر سید ندیم حیدر کے مطابق انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنوں میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے گئے ہیں ۔پولنگ کے لئے 493 پولنگ بوتھ بنائے گئے ہیں ، جن میں سے 258 مردوں اور 235 خواتین کے لئے مختص ہیں۔

مجموعی طور ایک لاکھ 52 ہزار 614 ووٹرز حق رائے دہی استعمال کریں گے ، جن میں سے 83 ہزار 16 مرد اور 69 ہزار 598 خواتین ووٹرز ہیں ۔ کل 1263 افراد پر مشتمل انتخابی عملہ پولنگ کی نگرانی کرے گا، جن میں 138 پریذائڈنگ آفسران ، 493 پولنگ آفسران ، 493 اسسٹنٹ پریذائڈنگ افسران اور 138 نائب قاصدین شامل ہیں۔الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق 4ہزار سے زائد فوجی ، رینجرز اور پولیس اہلکار سیکیورٹی کے فرائض سر انجام دیں گے۔

ضمنی انتخاب کے لئے 12 امیدوار میدان میں ہیں ،تاہم اصل مقابلہ پیپلز پارٹی کے ڈاکٹر جمیل احمد سومرو اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے معظم علی عباسی کے مابین متوقع ہے ۔سید ندیم حیدر کے مطابق انتخابی مہم 15 اکتوبر کو (آج)رات 12 بجے ختم ہوگی اور ہم نے شفاف انتخابات کے لئے ضروری اقدام کئے ہیں۔انتخابی سامان سخت سیکیورٹی میں 16 اکتوبر (کل )شام کو متعلقہ انتخابی عملے کو فراہم کیا جائے گا اور پولنگ 17 اکتوبر کو ہوگی۔ یاد رہے کہ یہ نشست گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس کے معظم علی عباسی کی نا اہلی کے بعد خالی ہوئی تھی۔

Array

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے