یہ پاکستان ہے بھائی !


تحریر: وزیر آفتاب حسین

جب انسان کی زندگی عمل سے عاری ہو جایا کرتی ہے تو جذبات بھی کھوکھلے ہو جاتے ہیں پھر بلند و بانگ نعروں میں وہ جان رہتی ہے نہ ہی دل سے نکلی ہوئی کسی بات میں کوئی اثر۔ انسان چاہے کچھ بھی کر لے بنا عمل کے نہ اپنی محبت ثابت کر سکتا ہے نہ ہی عقیدت اور بات وہاں نہایت گھمبیر ہو جایا کرتی ہے جہاں گفتگو اور عمل میں واضح تضاد پایا جاتا ہو۔

مملکتِ خداداد پاکستان اور یہاں بسنے والے لوگوں کو بھی کچھ ایسی ہی صورتِ حال کا سامنا ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ یہاں رہنے والا ہر شخص اس وطن کو عزیز تر مانتا ہے اور اس سے بے پناہ محبت کر تا ہے لیکن پھر وہ کیا وجہ ہے، وہ کونسی رکارٹ ہے جو ہمارے اور کامیابی کے درمیان حائل ہے۔ آپ میں سے بھی اکثر خواتین و حضرات نے ایک جملہ متعدد بار سنا ہوگا۔ یہ پاکستان ہے بھائی! یہاں سب چلتا ہے۔ آپ کسی سرکاری دفتر میں کھڑے ہوں یہ جملہ آپ کی سماعتوں سے ٹکراتا ہوا گزر جائے گا، کبھی کسی بنک میں کسی شخص کے منہ سے آپ یہی جملہ سنیں گے حتی کہ تعلیمی اداروں میں بھی یہ جملہ تواتر کے ساتھ دہرایا جاتا ہے۔ کوئی کسی سرکاری عمارت کا شیشہ، تو کوئی سڑک پر سگنل توڑتے ہوئے یہی کہتا ہوا نکل جائے گا کہ یہ پاکستان ہے بھائی یہاں سب چلتا ہے۔

لیکن دوسری طرف اگر آپ انہی حضرات کے سامنے پاکستان کا نام ذرہ سا غلط لے لیں یا کسی بھی ملک کے ساتھ پاکستان کا موازنہ کرنے لک جائیں یہ آپ پر ٹوٹ پڑیں گئے اور پھر آپ ان کے سامنے اس وقت تک کچھ کہنے کے قابل نہ رہیں گئے جب تک وہ اس ملک سے اپنی بے لاک اور بے باک محبت کا اظہار نہ کر دیں۔وہ آپکو بے شمار خوبیاں بھی گنوائیں گئے او رآپکو آپکا چہراہ بھی دیکھائیں گئے لیکن جوں ہی بات اپنے کردارو عمل پر آئے گئی ہر کوئی راہ ِفرار اختیار کرتا ہوا نظر آئے گا۔ یقین جانئیے مجھے بے انتہا خوشی ہوتی ہے جب میں یہاں موجود بچے بچے کو یوم آزادی کے دن اس پاک پرچم کو چومتے ہوئے دیکھتا ہوں، میں خود کو کم ہی سنبھال پاتا ہوں جب میں یومِ دفاع پاکستان پر لوگوں کی آنکھوں سے بہنے والے اشکوں کی خوشبو کو دیکھتا ہوں۔ ہم لوگ بے شمار نعرے بھی لگاتے ہیں، بے پناہ گیت بھی گاتے ہیں اور بے حساب گند بھی پھیلاتے ہیں۔ ہم اس ملک کو اپنا گھر مانتے ہیں اور آپ خود انصاف سے بتائیے کے کیا سلوک گھر جیسا کرتے ہیں؟

ہر چوک پر، ہر موڑ پر، گلی گلی اور کوچے کوچے میں، میں جب بکھرا ہوا کچرا اور کھلے ہوئے گٹر، بند نالیاں دیکھتا ہوں تو وہاں وطن سے بے لاگ اور بے لوث محبت کے دعوے داروں کے چہرے میرے سامنے گھومنے لگتے ہیں۔ ارے! بھلا کوئی اپنے اُس بچے کو، جس سے وہ بے پناہ محبت کرتا ہو پھٹی ہوئی جوتی، ادھڑی ہوئی قمیص، بکھرے ہوئے بالوں اور گندے منہ کے ساتھ بے سر و سامانی کے عالم میں چھوڑے گا؟

اقبال ؒ نے کہا تھا کہ

اقبال بڑا اُپدیشک ہے، من باتوں سے موہ لیتا ہے،

گفتار کا یہ غازی تو بنا،کردار کا غازی بن نہ سکا

ہم اپنے اس عظیم وطن سے بے پناہ محبت کرتے ہیں لیکن افسوس کے محبت کے تقاضوں سے واقف نہیں ہیں۔ ہمارا یہ ملک جس نے ہمیں سب کچھ دیا اسے ہم نے چند افراد کے حوالے کر دیا۔ ہم اس میں اپنا حصہ ڈالنے سے کتراتے ہیں،ہم ووٹ ڈالتے ہیں اور یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ ہم نے اپنی ذماداری نبھا دی،اس بات سے قطع نظر کے اس کے بعد سے ہی اصل ذماداری کا آغاز ہوتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ہم آج تک کسی کا احتساب نہیں کر پائے۔ہم نے اس ملک کو لوٹنے والوں کے ساتھ محسنوں سا سلوک کیا،ہم آج تک کسی کو اس ملک میں یہ احساس تک نہ دلا پائے کے اب اگر تم نے اس ملک کے ساتھ انصاف نہ کیا تو تمہیں ایک مثال بنا دیا جائے گا، ہم اب بھی تیس تیس سال پرانے لوگوں کو کندھوں پر بیٹھا کر اسمبلیوں میں پہنچاتے ہیں، ہم اپنے ہی لوگوں کو گدھے،سور اور کتے کا گوشت کھلاتے ہیں، ہم حرام حلال میں ہر قسم کی تمیز سے بے پروا ہو چکے ہیں، پھر ہم اپنے بچوں کے سامنے اس بات سے قطع نظر کے اُن کے ذہنوں پر کیا اثرات مرتب ہوں گئے، کہتے ہیں کہ  ’یہ پاکستان ہے یہاں سب چلتا ہے‘۔

اس ملک میں اہل اور با صلاحیت افراد کی کوئی کمی نہیں یہاں سے لوگ ساری دنیا میں جاتے ہیں اور کامیابی کے جھنڈے گاڑ کے آتے ہیں۔ہم آج تک ان اہل اور با صلاحیت افراد کے لیئے سمت کا تعین کیوں نہ کر سکے۔ہم آج تک اپنے نوجوانوں کو اعتماد کیوں نہیں دلوا سکے۔آج بھی ہمارا نوجوان یونیورسٹی میں پہنچنے کے باوجود یہ سوچ رہا ہو تا ہے کہ اسے آگے کیا کرنا ہے،کونسا راستہ اختیار کرنا ہے۔ہم قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے چودہ نکا ت کا رٹا تو لگواتے ہیں لیکن یہ نہیں بتاتے کہ متحدہ ہندوستان میں بھی کبھی قائد اعظم ؒ نے یہ نہیں کہا تھا کہ یہاں سب چلتا ہے، ہم اپنے نوجوانوں تک یہ بات کم ہی پہنچاتے ہیں کہ قائد اعظمؒ نے اتنے نامساعد حالات میں بھی کبھی قانوں کو ہاتھ میں نہیں لیا۔

ہم حکومت کو تبدیل کرنے کے لیئے ۶۲۱ دن دھرنا دے سکتے ہیں لیکن اپنے اندر تبدیلی لانے کیلئے ایک بار سوچنے کو تیار نہیں ہیں۔ہم ساٹھ ساٹھ عرب کے پل بناتے ہیں لیکن فیصلہ کرتے وقت ساٹھ سیکنڈ کے لیئے بھی یہ نہیں سوچتے کہ کیامیرا یہ فیصلہ اس ملک کہ لیئے فائدہ مند ہے،جس میں میرا جینا مرنا لکھا ہے۔

ہم میں آج بھی ۵۶ کا وہ جذبہ ہے، ہم میں آج بھی ایسے سپوت موجود ہیں جو وقت پڑنے پر دشمن کو پاش پاش کر دیں، ہم میں آج بھی وہ قابلیت موجود ہے جو اس ملک کو صف اول کہ ممالک میں لا کھڑا کرئے۔لیکن صرف عمل ہی ہمیں وہ مقام دلا سکتا ہے جس کے ہم سب متلاشی ہیں، جس کا آج سے ۷۰برس قبل ہمارے بڑوں نے خواب دیکھے تھا۔ہمیں اپنی ذماداریوں کا احساس کرنا ہوگا،ہمیں حقیقت پسند بنا ہوگا اور اس حقیقت کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہوگا، ہمیں پہلے خود کو پھر اپنے معاشرے کو تبدیل کرنا ہوگا۔ہمیں اپنی سوچ میں بھی لچک لانی ہوگی، ہمیں اپنے اندر برداشت کو بھی پیدا کرنا ہوگا۔ہمیں پیسوں کیلئے نہیں بلکہ اس ملک کے لیے پڑھنا ہوگا، ہمیں نوکری کے لیے نہیں بلکہ اپنی اصلاح کے لیے تعلیم حاصل کرنی ہوگی۔ جس دن ہم نیک نیتی کو اپنا شعار بنا لیں گے اور دوسروں کو پیچھے دکھیلنے کے بجائے خود آگئے بڑھیں گئے اس روز ہم اس ملک سے انصاف بھی کریں گئے اور وہ حق جو ہم پر اس ملک کا ہے وہ ادا بھی کریں گے۔

بقول اقبال ؒ 

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی

یہ خاکی اپنی فطرت کی نہ نوری ہے نہ ناری ہے

متعلقہ مضامین