یہ بچے بھی پھول ہیں

آپ چھو دیکھیں کسی غنچے کو اپنے ہاتھ سے
غنچہ گل ہو جائے گا اور گل چمن ہو جائے گا

ایسا ہی ایک چمن میری نظروں سے بھی ہو کرگزرا، جب سوشل ویلفیئر کمپلیکس کا دورہ کرنے کا موقع ملا، کمپلیکس میں داخل ہوتے ہی بائیں جانب پہلے بورڈ پر نظر پڑی جس پر لکھا تھا "چمن” اس وقت تک میں ناواقف تھی کہ بظاہر ویران نظر والی یہ عمارت آیا چمن کیسے ہوسکتی ہے۔

خیر جب اس عمارت میں داخل ہوئے تو اس چمن کے مرجھائے پھول دیکھ کر اندازہ ہوا کہ یہ ان پھولوں کا چمن ہے. یہ پھول کوئی عام پھول نہیں بہت خاص اور انمول پھول تھے جنہیں اللہ کی خاص رحمت اور تحفہ بھی کہا جاتا ہے جو ہر گھر میں نہیں کھِلا کرتے. اور جن کے گھر یہ پھول کھلتے ہیں یہی پھول ان کیلئے جنت کا زریعہ بھی بنتے ہیں۔


اس سب کے باوجود جب میں نے ان پھولوں کو دیکھا تو میرے ذہن میں صرف یہی سوال گھومتا رہا کہ آخر کون لوگ ہیں وہ جو اپنی اتنی قیمتی نعمت کو یہاں چھوڑ گئے ہیں۔ ان پھولوں سے مراد وہ بچے ہیں جو عام بچوں کی طرح تو نہیں ہوتے لیکن اللہ کی طرف سے ان میں اور بہت سی خصوصیات ہوتی ہیں، ان کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت شاید عام بچوں کے جیسے نہیں ہوتی لیکن ان کے زہن وہ سب سوچتے اور اپنی معصوم خداداد صلاحیتوں سے کر گزرتے ہیں جن کا شاید ہم تصوور بھی نہیں کر سکتے۔


چمن گورنمنٹ آف پنجاب کا وہ ادارہ ہے جو ان معصوم بچوں کی کفالت کررہا ہے. انہیں وہ ہر ضروریات مہیا کر رہا ہے جو ایک عام انسان کے زندہ رہنے کے لئے ضروری ہے. لیکن پھر بھی یہ بچے محروم ہیں، اپنوں کی چاہت اور خصوصی توجہ کے، جو انہیں یہاں چھوڑ گئے اور پلٹ کر کبھی دیکھا بھی نہیں۔ شاید اسی لیے جب بھی میں وہاں گئی ہوں یہ بچے ایسے میرا ہاتھ تھامتے ہیں کہ جیسے کب کے منتظر تھے کہ کوئی ان سے بھی ملنے آئے، کوئی انہیں بھی اپنا کہہ کر مخاطب کرے، کوئی ان کے ساتھ بھی کھیلے کوئی انہیں بھی پیار کرے۔


میں نہیں جانتی ان کے والدین کون ہیں یا ان کی کیا مجبوری رہی ہوگی جو وہ انہیں یہاں چھوڑ گئے لیکن ایسا بھی کیا کہ پلٹ کر انہیں دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا۔ ان کی پیدائش ہی آپ کا جنت کا ذریعہ نہیں، انہیں ان کے وہ سب حقوق دینا بھی آپ کے اولین فرائض میں شامل ہے۔ یہ بھی آپ کے پیار کے مستحق ہیں، ان کا بھی حق ہے کہ دوسرے بچوں کی طرح نارمل زندگی گزاریں، سکولز میں جائیں تعلیم حاصل کریں، اٹھنا بیٹھنا کھانا پینا لوگوں سے ملنا سیکھیں۔ آخر سب نے اس دنیا سے چلے جانا خدارا انہیں ان کے قابل تو بنا دیں تاکہ آپ کے جانے کے بعد اس دنیا میں دربدر نہ ہوں، انہیں کوئی نہ دھتکارے اور ان سب کے لیے ضروری ہے انہیں باقی بچوں کی طرح ٹریٹ کیا جائے وہ سب سکھایا جائے وہ ہم اپنے باقی بچوں کو سیکھاتے ہیں۔

شاید آپ میں بہت سے لوگ اس بات سے بے خبر ہیں کہ ان خصوصی بچوں کیلئے بھی ہماری ریاست میں ایک ایکٹ پاس ہو چکا ہے۔ "معذور افراد (روزگار اور بحالی) آرڈیننس” 1981 میں بطور صدارتی آرڈیننس نافذ کیا گیا تھا۔ یہ قانون 1981 میں "معذور افراد کے لئے بین الاقوامی سال” کے دوران نافذ کیا گیا تھا تاکہ معذور افراد کو حکومت کے ساتھ ساتھ تجارتی اور صنعتی اداروں میں ملازمت تلاش کرنے میں مدد فراہم کی جاسکے۔ 2011 میں مزدوری کے موضوع کو تحلیل کرنے کے بعد ، پنجاب اور خیبر پختونخوا کے صوبوں نے 1981 کا آرڈیننس منظور کیا ہے۔ یہ آرڈیننس اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ بچے نااہل اور ناکارہ نہیں ہیں، ان میں بھی وہ سب خصوصیات ہیں جو ہم عام بچوں میں دیکھتے ہیں۔ بس ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں ان کی ان تمام صلاحیتوں کو اجاگر کرنا ہے اور انہیں اس قابل بنانا ہے کہ یہ کسی کی محتاج نا رہیں اور اپنے حقوق کیلئے اپنی آوازبلند کر سکیں۔


دنیا میں 93 ملین، پاکستان میں تقریباً 3,286,630 جبکہ بنجاب 1,826,623 بچے چمن کے ان پھولوں جیسے ہیں. جن میں مختلف قسم کی خامیاں پائی جاتی ہیں جنہیں ہماری میڈیکل سائنس میں 4 مختلف قسموں میں بیان کیا جاتا ہے۔ بلائنڈ جو دیکھ نہیں سکتے، ڈیف اینڈ ڈم جو سن اور بول نہیں سکتے، فزیکل ڈیس ایبیلٹی جو نارمل انسان کی طرح چلنے پھرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور ڈاؤن سینڈرومز جو ذہنی طور پراپنی عمر کے اعتبار سے نارمل بچوں کی نسبتاً کمزور ہوتے ہیں، یوں کہہ لیں کہ اگر عام بچے کی ذہنی نشوونما اپنی عمر کے حساب سے ٹھیک ہے تو یہ بچے اپنی عمر کے لحاظ کم عمر کی ذہنیت رکھتے ہیں ان کی ذہنی نشوونما بہت آہستہ آہستہ ہوتی ہے جو عمر کے گزرنے کے ساتھ ساتھ جسمانی طور پر تو بڑھے ہو جاتے ہیں لیکن ان کا زہن اور بولنے کی صلاحیت چھوٹے بچوں کی طرح ہی رہتی ہے. اس لیے یہ عمر کے جس بھی حصے میں ہوں انہیں چھوٹے بچوں کی طرح ہی ٹریٹ کیا جاتا ہے۔


آخر میں یو ایم ٹی سکاؤڈز کے ان تمام دوستوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہوں گی جنہوں نے اپنی مصروفیات کے باوجود ان بچوں کے لیے وقت نکالا اور ان سے ملنے چمن سنٹر میں آئے،اس لمحے ان بچوں کے چہروں پر جو خوشی اور مسکراہٹ تھی وہ قابل دید تھی. یقین جانئیے یہ بچے بہت پیار کرنے والے ہیں۔ ان کے اس پیار کی قدر کیجئے اور انہیں اپنائے. ان کیلئے وقت نکالیں اور اس چمن کو آباد رکھیں تاکہ یہاں کا کوئی پھول کبھی مرجھائے نا. یہ آپ سے کچھ بھی نہیں مانگتے سوائے آپ کی توجہ، وقت اور بے پناہ محبت کے۔ ان کی زندگی سوار کر اپنی آخرت بھی سواریے صدقہ جاریہ ہی سہی لیکن کچھ ووقت ان کیلئے بھی اپنا وقف کریں۔
ذرا سوچئے!

متعلقہ مضامین