رانا ثنا اللہ کی درخواست ضمانت مسترد

پاکستان میں لاہور کی انسداد منشیات کی خصوصی عدالت نے مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر اور قومی اسمبلی کے رکن رانا ثنا اللہ کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

اس سے قبل انسداد منشیات کی عدالت میں رانا ثناءاللہ کی درخواست ضمانت پر سماعت کے دوران اے این ایف کے پراسیکیوٹر نے بتایا کہ مکمل ریکارڈ آ گیا ہے۔

رانا ثناءاللہ کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ رانا ثناءاللہ کے سٹاف کے پانچ ممبرز کی ضمانت منظور ہوچکی ہے۔ وکیل فرہاد شاہ نے کہا کہ رانا ثناءاللہ کا پہلے دن سے یہ کہنا ہے کہ موٹروے سے نکلتے ہوئے اے این ایف نے میری گاڑی روکی۔ اے این ایف نے رانا ثناءاللہ کے ڈرائیور کو باہر نکال کر اپنا ڈرائیور بٹھا کر گاڑی لاہور لے آئے۔

وکیل فرہاد علی شاہ نے بتایا کہ سیف سٹی اتھارٹی کی فوٹیجز نے ہمارا موقف کو درست قرار دے دیا۔ اے این ایف حکام نے موقع پر کوئی کارروائی نہیں کی۔ اے این ایف آفس میں آکر جھوٹی ایف آئی آر درج کی گئی۔

انسداد منشیات کے خصوصی جج شاکر حسین کی عدالت کو وکیل فرہاد شاہ نے بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق رانا ثناءاللہ کی گاڑی 3:34 منٹ پر لاہور کنال روڑ پر پہنچی۔ رانا ثناءاللہ کی گاڑی پندرہ منٹ کے اندر اے این ایف کے آفس پہچ گئی۔

وکیل فرہاد علی شاہ کے مطابق رانا ثناءاللہ کی گاڑی کی سی سی ٹی وی فوٹیجز کو ریکارڈ کا حصہ بنایا گیا ہے۔ رانا ثناءاللہ کی درخواست ضمانت سیف سٹی کی فوٹیج آنے کے بعد دوبارہ دائر کی ہے۔

وکیل کے مطابق اے این ایف نے الزام عائد کیا کہ رانا ثناءاللہ کے سٹاف ممبر ہمارے اوپر اسلحہ تھان لیا۔ اے این ایف کے ممبران پر اسلحہ نہیں تھان یہ جھوٹا الزام عائد کیا گیا۔

جج نے ہدایت کی کہ فریش لیگل گراونڈ پر بحث کریں یہ سب کچھ پرانی باتیں ہیں۔

وکیل فرہاد علی شاہ نے کہا کہ جناب کا حکم ہوگیا میں فریش گراونڈ پر آتے ہیں۔ سیف سٹی اتھارٹی کے کیمروں نے رانا ثناءاللہ کے موقف درست قرار دیا۔ چار ماہ سے رانا ثناءاللہ جیل میں ہیں اور وہ دل کے مریض ہیں۔

وکیل نے کہا کہ رانا ثناءاللہ ٹرائل کا سامنا کریں گے ہم نے بریت کی درخواست دائر نہیں بلکہ درخواست ضمانت کی استدعا کی ہے۔

”رانا ثناءاللہ کی میڈیکل رپورٹس درخواست ضمانت کی فائل کے ساتھ نتھی ہیں۔ رانا ثناءاللہ کے بلڈ پریشر کبھی بھی خطرے ناک حد تک بڑھ سکتا ہے۔ رانا ثناءاللہ اپنی گاڑی میں بی پی آپریٹس ساتھ رکھتے ہیں۔“

وکیل فرہاد علی شاہ نے استدعا کی کہ رانا ثناءاللہ کی درخواست ضمانت منظور کی جائے۔

متعلقہ مضامین