جسٹس فائز کے خلاف پوری حکومتی مشینری حرکت میں لائی گئی

پاکستان کی سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدر مملکت کو بھیجی گئی دو صفحات پر مشتمل پرائیویٹ شکایت پر معاملے کی کھوج لگانے کے لیے پوری مشینری حرکت میں آئی اور تمام محکموں نے تحقیقات کرنا شروع کیں۔ 

مقدمے سننے والے دس رکنی بینچ کے جسٹس منصور علی شاہ نے یہ آبزرویشن دینے کے بعد پوچھا کہ کیا پوری حکومتی مشینری کو حرکت میں لانے سے قبل شکایت کنندہ کو مزید معلومات فراہم کرنے کا بھی کہا جاسکتا ہے؟

رپورٹ: ج ع 

منگل کو سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس کیخلاف آئینی درخواستوں پر سماعت جسٹس عمر عطابندیال کی سربراہی میں د س رکنی فل کورٹ نے کی ۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی قانونی ٹیم کے رکن ایڈووکیٹ بابر ستار نے ایسٹ ریکوری یونٹ کے قیام اور اُس کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھا دیا ۔ایڈووکیٹ بابر ستار نے دلائل میں کہا صدارتی ریفرنس کا موجب بننے والی معلومات ناپختہ ہیں ،صدر مملکت کی رائے کی بنیاد اسسٹنٹ کمشنر کی رپورٹ ہے ،اسسٹنٹ کمشنر کی رپورٹ میں دائر ہ اختیار سے تجاوز کیا گیا ،ایسٹ ریکوری یونٹ کے قیام کا نوٹیفیکیشن بعد میں ہوا شواہد پہلے اکھٹے کیے گئے۔

جسٹس قاضی فائز عیسی کے وکیل بابر ستار نے دلائل میں مزید کہا کہ صدر مملکت کے سامنے ٹیکس سے متعلق کوئی مواد نہیں تھا جس پر آزاد ذہن کیساتھ رائے قائم کی جاتی ۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا یہ مقدمہ مس کنڈکٹ سے متعلق ہے ۔

ایڈووکیٹ بابر ستار نے عدالت کو بتایا انکم ٹیکس آرڈیننس دو ہزار ایک کے تحت انکم ٹیکس آفسران کے مشورہ دینے کا اختیار نہیں دیتا،11 مارچ 1999 کو جسٹس قاضی فائز عیسی ایف بی آر کے پاس رجسٹرڈ ہوئے، ایف بی آر کے اندرونی طریقہ کار کے علاوہ سپریم جوڈیشل کونسل سمیت کوئی اتھارٹی ٹیکس معلومات نہیں دے سکتی، جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ پبلک سروس میںنہیں انکی معلومات شیئر نہیں کی جا سکتی۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ آپ کا کہنا ہے کہ جب سارا مواد صدر کے پاس گیا تو ان کو مواد حاصل کرنے کے قانونی طریقہ کار کو دیکھنا چاہے تھا ،تکنیکی طور پر آپ درست کہہ رہے ہیں لیکن یہ نکات چھوٹے ایشوز ہیں ۔

جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس میں کہاجسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف صدر مملکت کو بھیجی گئی دو صفحات پر مشتمل پرائیویٹ شکایت کی کھوج لگانے کیلئے پوری مشینری حرکت میں آگئی ،تمام محکموں نے تحقیقات کرنا شروع کردیں ، کیا پوری حکومتی مشینری کو حرکت میں لانے کی بجائے شکایت کنندہ کومزید معلومات فراہم کرنے کا بھی کہا جاسکتا ہے ؟۔اس پر ایڈووکیٹ بابرستار نے جواب دیا اعلیٰ عدلیہ کیخلاف مس کنڈکٹ کی شکایت کو طے کردہ طریقہ کار کے مطابق جانچا جاتا ہے ،جج کو عہدے سے ہٹانے کیلئے پورا طریقہ کار موجود ہے ،کیونکہ یہ ملکی وعوامی مفاد اور عدلیہ کے وقارکا معاملہ ہے۔

جسٹس عمر عطابندیال نے کہا ہم سمجھ گئے ہیں آ گے چلیں ۔

کیس کی سماعت کے دوران جسٹس عمر عطاء بندیال نے ایڈووکیٹ بابر ستار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ بابر ستار صاحب کمرہ عدالت میں لگی گھڑی بھی کچھ کہہ رہی ہے، آپ کے دلائل غور طلب ہیں، آپ ٹیکس قوانین سے متعلق کل اپنے دلائل مکمل کریں۔

بابر ستار نے کہا کہ اگر مجھ سے سوالات نہ کیے گئے تو کل تک دلائل مکمل کر لوں گا۔کیس کی سماعت بدھ کے ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کردی گئی۔

متعلقہ مضامین