مولانا فضل الرحمن کا پرامن آزادی مارچ

عبد الجبار ناصر

جمعیت علماء اسلام کے تحت مولانا فضل الرحمن نے سول بالادستی کی تحریک کو آگے بڑھاتے ہوئے ایک اور سنگ میل پرامن طور پر عبور کیا اور یہ بھی دنیا کو بتادیا کہ 17 دن تک بلامبالغہ بعض اوقات لاکھوں اور بیشتر اوقات ہزاروں افراد کے مجموعے کا پر امن احتجاج بھی ہوسکتا ہے۔ اور یہ کام اہل مذہب ہی کرسکتے ہیں

2۔27 اکتوبر سے 13 نومبر2019 تک آزادی مارچ کے دوران کراچی سے اسلام آباد اور پورے ملک میں کوئی ایک بندہ بھی یہ شکوہ نہیں کرسکتا ہےکہ آزادی مارچ کی وجہ سے ان کی زندگی کا کوئی لمحہ متاثر ہوا ہو۔

3۔غالبا پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ممکن ہوا ہے کہ شرکاء سے عوام کو ایک طویل اجتجاج کے باوجود بھی کوئی شکوہ یا شکایت نہیں رہی۔

4۔آزادی مارچ کے آغاز سے تقریبا تمام سنجیدہ طبقات شدید خدشات سے دوچار تھے کہ خدا نخواستہ کوئی سانحہ نہ ہو اور سب دلی طور پر اضطراب میں تھے۔ خد شہ ہم جیسے طالب علموں کو بھی تھا۔

5۔ پریشانی اس لیے بھی تھی کہ بظاہر تمام ریاستی ادارے اور حکومت ایک پیج پر تھی اور مبینہ طور پرمقتدر قوتوں کی جانب سے طاقت کے استعمال کی خبریں بھی میڈیا کی زینت بنی اور بعض حکومتی وزراء کی یہ کوشش بھی نظر آئی کہ تصادم ہو مگر یہ منصوبہ الحمد للہ نام رہا۔

6۔ مولانا فضل الرحمان کا مقصد صرف استعفی تھا تو وہ ناکام رہے مگر حقیقتا ایسا نہیں تھا، جو لوگ ایک خاص ملاقات کے بعد مولانا فضل الرحمان سے ملے ہیں وہ جانتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمن کا ٹاسک صرف استعفی نہیں بلکہ استعفی ثانوی تھا۔

7۔ مولانا فضل الرحمان کے کچھ دیگر "ملی، قومی اور سیاسی اہداف” تھے۔ وہ کیا تھے آیندہ چند دن میں صورتحال واضح ہوجائے گی۔

8۔مولانا نے ملکی سیاسی ماحول میں خوف و دہشت کے جمود کو توڑا اور ہر اس فرد کو چیلنج کیا جو ملک میں حقیقی سیاسی قوت کو کمزور کرتا ہوا نظر آیا اور مولانا کامیاب ہوئے۔

9۔مولانا فضل الرحمان عملا پاکستان کی اس عوام آواز بنے، جو مہنگائی، بے روز گاری، معاشی بدحالی، سیاسی عدم استحکام اور حکمرانوں کی بچکانہ حرکتوں یا "بنانہ ریپبلک” بنانے کی کوشش سے شدید مایوس تھے۔

10۔تقریبا نصف سال سے ملک کے تاجر سراپا احتجاج تھے مگر معاملہ وعدوں سے آگے نہیں بڑھ رہا تھا۔ آزادی مارچ شروع ہوا اورحکومت تاجروں کے مطالبات ماننے پر مجبور ہوئی اور الحمد للہ اس دن سے ملکی اسٹاک ایکسچینج میں بہتری نظر آرہی ہے۔

11۔مقتدر قوتوں کو غالبا یہ احساس آزادی مارچ کے بعد ہی ہوا ہے کہ ملک کے آگے بڑھنے کے لئے سیاسی استحکام ضروری ہے اور ظاہری حکمرانوں کے نہ چاہتے ہوئے بھی ملک سیاسی قوتوں کو کچھ ریلیف ملتا نظر آرہاہے۔

12۔موت کا ایک وقت اٹل ہے، مبصرین کا دعوی ہے کہ مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ نہ ہوتا تو شاید سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کی صورتحال نہایت ہی خراب ہوچکی ہوتی اور اسی طرح کی صورتحال آصف علی زرداری کی ہے۔

13۔دیگر کئی طبقوں کے مسائل بھی حل ہوتے نظر آرہے ہیں۔

14۔مولانا فضل الرحمان نے ہر اس آدمی کو عملا غلط ثابت کردیا، جو مولانا اور ان کی جماعت پر انتہائی سنگین الزامات لگاتا ہے۔

15۔پوری ملکی سنجیدہ سیاسی و مذہبی (سوائے جماعت اسلامی) قیادت کو ایک اسٹج پر کھڑا کرنا مولانا فضل الرحمان کی کامیابی ہے۔

16۔مولانا نے اس تاثر کو بھی عملا سمندر برد کیا کہ ان کی سیاسی قوت صرف مولوی یا طلبا ء ہیں بلکہ ہر محب وطن ان کے ساتھ ہے۔

17۔آئین پاکستان اور اس میں شامل اسلامی دفعات اور مدارس کے معاملے پر بھی لوگ اب سخت جملے استعمال سے گریز کریں گے۔

18۔آئین پاکستان کی اساس کو چھیڑنے کی شاید اب کسی کی جرات نہ ہو۔

19۔ مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کے بعد ممکن ہے کہ حکمران بچکانہ حرکتوں سے بعض آئیں اور سنجیدہ ہوکر ملک کو مشکلات سے نکالنے کی کوشش کریں۔

20۔ کئی اہم معاملات پر بھی اہم پیش رفت نظر آرہی ہے اور اس ضمن میں آئندہ سے 2سے 6 ماہ کو اہم قرار دیا جارہا ہے۔

21۔ تحریک کے اگلے مرحلے میں مولانا فضل الرحمان کو نہایت پھونک پھونک کر قدم رکھنا ہوگا، کیونکہ اب کی بار مخالفین کی یہ کوشش ہوگی کہ تشدد کا راستہ اختیار کیا جائے اور جمعیت علماء اسلام کو ملنے والی نیک نامی کو بدنامی میں بدل دیا جائے۔

متعلقہ مضامین