نواز شریف کو ای سی ایل سے نکالنے کا حکم

پاکستان میں لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو بیرون ملک علاج کے لیے جانے کی اجازت دیتے ہوئے حکومت کو ان کا نام ایگزٹ کنٹرول فہرست سے نکالنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے حکومت کی جانب سے عائد ضمانتی بانڈز کی شرط ختم کر دی اور ن لیگ کے تحریری حلف نامہ جمع کروانے پر نواز شریف کا نام غیر مشروط طو پر ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیا۔

ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم کو عبوری ریلیف دیتے ہوئے ایک ماہ کے لیے علاج کی غرض سے بیرون ملک جانے کی اجازت دی ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ ضمانتی بانڈز جمع کرانے کے وفاقی کابینہ کی جاری کردہ میمورنڈم کو درخواست گزار شہباز شریف نے چیلنج کیا تھا جس پر آئندہ سماعت جنوری 2020 کے تیسرے ہفتے میں ہوگی۔

فیصلے کے بعد مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے کہا کہ عدالت نے نواز شریف کو علاج کی غرض سے بیرون ملک جانے کی اجازت دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی پیدا کی گئی آخری رکاوٹ بھی عدالت نے ختم کر دی ہے۔

اس سے قبل لاہور ہائی کورٹ میں نواز شریف کا نام غیر مشروط طور پر ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست پر سماعت کے دوران شہباز شریف کے وکیل کی جانب سے جمع کروائے جانے والے حلف نامے پر وفاقی حکومت کے وکیل نے اعتراض اُٹھایا تھا۔

عدالتی بینچ نے اپنا ڈرافٹ تیار کر کے فریقین وکلا کو دیا اور ان کی رائے معلوم کی تو سرکاری وکیل نے اعتراض کیا جس کو مسترد کر کے فیصلہ سنایا گیا۔

نواز شریف کے وکلا اور شہباز شریف کی جانب سے بیان حلفی ملنے کے بعد کہ وہ علاج کے لیے بیرون ملک جانے کے بعد مقدمات کا سامنا کرنے اور سزائیں مکمل کرنے کے لیے واپس آئیں گے، عدالت نے واپسی کی شرائط کا ڈرافٹ تیار کر کے فیصلہ سنایا۔

عدالت نے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر حکومت کا اعتراض بھی مسترد کیا تھا۔ مقدمے کی سماعت وقفے وقفے سے آٹھ گھنٹے تک جاری رہی۔

سنیچر کو شہباز شریف نے عدالت میں بیان حلفی جمع کرایا کہ وہ نواز شریف کے بیرون ملک علاج کے بعد ان کی واپسی کی ضمانت دیتے ہیں۔

اس سے قبل جسٹس باقر نجفی کی سربراہی میں عدالتی بینچ نے نواز شریف کی واپسی سے متعلق بیان حلفی طلب کرتے ہوئے کہا تھا کہ بیان حلفی لکھ کر دیا جائے پھر حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین