بہت اچھے، مائی لارڈ

اسے قنوطیت پسندی کہہ لیجئے، میرے لئے یہ باور کرنا مشکل ہے کہ ہماری موجودہ سپریم کورٹ یہ سکت رکھتی ہے کہ وہ آرمی چیف کی ایکسٹنشن منسوخ کر سکے۔ جناب چیف جسٹس کی مگر یہ ایک سمارٹ موو ہے-

اپنی ریٹائرمنٹ سے چند روز قبل اپنی ملازمت کے دورانیے کا یہ پہلا سوموٹو لے کر انہوں نے کئی بہت ٹھوس پوائنٹ سکور کر لئے ہیں۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اب اس طرح یوم سیاہ نہیں منا پائے گی، جیسے ان کا ارادہ تھا کیونکہ کیس اب زیرسماعت ہے-

سینئیر وکلاء کو موجودہ عدالتی سیٹ اپ اور جناب چیف جسٹس کی ذات پر جو شکوک یا تحفظات تھے، ان کا بھی کچھ نہ کچھ ازالہ ہو جائے گا۔

اداروں کے درمیان اختیارات کیلئے جو کھینچا تانی چل رہی ہے اس میں اپنے ادارے یعنی عدلیہ کے مفادات کا تحفظ بھی انہوں نے یقینی بنا لیا ہے-

مشرف کے ٹرائل پر ان کے بیان کے بعد جس طرح حکومت نے اس مقدمے پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی، اس پر عدلیہ کی جانب سے یہ جوابی وار کر کے چیف جسٹس نے رائے عامہ کی توجہ سابقہ چیف کے مقدمے سے ہٹا کر موجودہ چیف پر مرکوز کر دی ہے-

ہمارے شخصیت پرستی معاشرے میں ہر جانے والے چیف جسٹس کے کردار کا فیصلہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ اس نے کتنے متنازعہ یا دلیرانہ فیصلے کئے۔ جناب کا دامن اس معاملے میں آج کے دن تک خالی تھا، اب تاریخ انہیں اس واحد چیف جسٹس کے نام سے یاد رکھے گی جس نے آرمی چیف کی ایکسٹنشن معطل کر دی۔

مگر اس سب سے بڑھ کر انہوں نے جو مہلک وار کیا ہے وہ جنرل باجوہ کی توسیعی مدت کو ہمیشہ کیلئے متنازعہ بنا دیا ہے- نوٹس کا فیصلہ ان کے حق میں بھی آ جائے تو اگلے تین سال جنرل باجوہ پاکستانی تاریخ کے متنازعہ ترین آرمی چیف کہلائیں گے۔

صرف ایک نوٹس لے کر جناب جسٹس آصف سعید کھوسہ نے وہ کچھ اچیو کر لیا ہے جو حکومت اس ایکسٹنشن پر آخر تک ابہام رکھ کر بھی حاصل نہیں کر سکی۔ ویل پلیڈ مائی لارڈ، ویری ویل پلیڈ۔ پاکستان میں رہ کر اتنی دلیری بھی کافی ہے-

متعلقہ مضامین