ٹرمپ افغانستان میں، طالبان سے مذاکرات

مواخذے کی کارروائی میں پھنسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اچانک افغانستان کے دورے پر پہنچے۔ ان کے اس دورے کا پہلے سے کوئی اعلان نہیں کیا گیا تھا۔

جمعرات کو افغانستان میں پہنچ کر امریکی صدر نے اعلان کیا کہ ’امریکہ نے طالبان کے ساتھ دوبارہ مذاکرات شروع کر دیے ہیں اور افغانستان میں اپنی افواج کی تعداد بتدریج کم کرتے رہے گے‘۔

انہوں نے افغان صدر اشرف غنی سے بگرام ایئر بیس پر ملاقات بھی کی۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’امریکہ طالبان کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے گا۔ وہ جنگ بندی سے متعلق معاملات طے کرنا چاہتے ہیں‘۔

امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق صدر ٹرمپ نے برسراقتدار آنے کے بعد پہلی بار افغانستان کا دورہ کیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم ان سے ملاقاتیں کریں گے اور ان سے کہیں گے کہ جنگ بندی کا اعلان ضروری ہے۔ طالبان اس کے خواہش مند نہیں تھے لیکن اب وہ جنگ بندی چاہتے ہیں۔ میرے خیال سے جنگ بندی کا معاہدہ ہوسکتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ طالبان ایسا کریں گے۔ ہمیں دیکھنا ہے کہ وہ معاہدہ میں کس حد تک سنجیدہ ہیں‘۔

امریکی صدر کا طیارہ بگرام ایئر بیس پر اترا تو ان کے ہمراہ خاتون اول میلانیا ٹرمپ، قومی سلامتی کے مشیر رابرٹ اوبرائن، وائٹ ہاﺅس کے متعدد معاونین، خفیہ سروس کے اہلکار اور صحافی بھی تھے۔

صدر ٹرمپ نے بگرام ایئر بیس پر تعینات امریکی فوجیوں سے ملاقات کی اور فوجیوں میں تھینکس گیوینگ (عید شکر) کے تحائف بھی تقسیم کیے۔ 2014ء کے بعد یہ کسی امریکی صدر کا یہ پہلا دورہ افغانستان ہے۔ اس وقت امریکہ کے صدر باراک اوباما افغانستان کے دورے پر آئے تھے۔

متعلقہ مضامین