طلبہ مارچ کا مقصد کیا تھا؟

پاکستان کے بڑے شہروں میں طلبہ نے یونینز کی بحالی اور فیسوں میں اضافے کے ”طلبہ یکجہتی مارچ“ کیا ہے۔ 

طلبہ مارچ کا اہتمام پروگریسیو سٹوڈنٹس، سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی اور ان سے وابستہ دیگر طلبہ تنظیموں کی جانب سے کیا گیا۔ 

جمعے کو طلبہ مارچ کے تحت کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں ریلیاں نکالی گئیں۔

پاکستان میں دائیں بازو کی جماعتوں اور اسلام پسند حلقوں کی جانب سے طلبہ مارچ کو بائیں بازو کی ترقی پسند تحریک کے احیا کے طور پر دیکھا گیا ہے۔

جمعے کو ملک کے تین شہروں میں طلبہ یکجہتی مارچ کے شرکا نے جمہوریت، ترقی پسندی اور برابری کے حقوق کے نعرے لگائے اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ طلبہ یونین پرعائد پابندی ختم کی جائے۔ 

مقررین نے مطالبہ کیا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی بجٹ کٹوتی واپس لی جائے اور تعلیمی اداروں میں مداخلت بند کی جائے۔ 

شرکا نے گمشدہ طلبا کو بازیاب کرانے اور تعلیمی اداروں کی نجکاری بند کرنے کے نعرے بھی لگائے۔

طلبہ نے مطالبہ کیا کہ فیسوں میں اضافہ واپس لیا جائے اور تعلیمی اداروں میں سیاسی سرگرمیوں نہ کرنے کے حلف نامے لینے کا سلسلہ ختم کیا جائے۔

متعلقہ مضامین