لندن: حملہ آور عثمان خان پہلے بھی سزا یافتہ تھے

برطانوی دارالحکومت لندن میں مصروف شاہراہ اور پل پر چاقو کے وار کر کے کئی افراد کو زخمی کرنے کے بعد پولیس کی کارروائی میں ہلاک حملہ آور کی شناخت عثمان خان کے نام سے ہوئی ہے جو پہلے بھی دہشت گردی کے جرم میں قید کاٹ چکا تھا۔

لندن پولیس نے بتایا ہے کہ حملہ آور کا نشانہ بننے والے دو عام شہری بھی ہلاک ہوگئے ہیں۔ 28 سالہ حملہ آور عثمان کو سنہ 2010 کے حملے میں ملوث ہونے پر سزا سنائی گئی تھی۔ 

حملہ آور عثمان خان کو اس وقت ایک پولیس افسر نے گولی ماری جب اسے ایک عام شہری نے قابو کیا ہوا تھا۔ 

لندن پولیس نے واقعے کو دہشت گردی قرار دیا ہے۔ 

لندن برج حملے کے چند گھنٹے کے بعد ہالینڈ کے شہر دی ہیگ میں بھی ایک مصروف ڈیپارٹمنٹ سٹور میں ایک شخص نے چاقو سے حملہ کر کے کم سے کم تین افراد کو زخمی کر دیا۔

دی ہیگ پولیس کے مطابق حملہ آور 40 سے 50 سال کی عمر کا شخص تھا جس کی تلاش جاری ہے۔

لندن برج کے حملے کے بارے میں پولیس کمشنر کریسیڈا ڈک نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ جمعے کو حملے کا آغاز فش مونگرز ہال سے ہوا۔ یہ برج کے شمالی سرے پر واقع ہے۔ یہاں قیدیوں کی بحالی کے سلسلے میں کیمبرج یونیورسٹی کی کانفرنس جاری تھی۔ 

ٹائمز اخبار کے مطابق مشتبہ شخص اس کانفرنس میں شرکت کر رہا تھا۔ 

اخبار کے مطابق عثمان کو جیل سے ایک ماہ قبل اس شرط پر رہائی ملی تھی کہ وہ الیکٹرانک ٹیگ کو پہنے رکھیں گے تاکہ ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جا سکے۔ 

اس تقریب میں درجنوں افراد یونیورسٹی کے طلبا اور سابق قیدی موجود تھے۔ 

لندن کے اسی پل پر تین جون 2017 کو بھی ایک حملے میں آٹھ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔

پولیس کمشنر کے مطابق ابتدائی کال موصول ہونے کے پانچ منٹ کے دوران پولیس نے مشتبہ حملہ آور کا مقابلہ کیا جس کے بارے میں یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ اس کے پاس نقلی دھماکہ خیز مواد ہے۔

متعلقہ مضامین