پاکستان دو بار کھیل کر بھی آسٹریلیا جتنا سکور نہ کر سکا

آسٹریلیا نے پاکستان کو دوسرے ٹیسٹ میچ میں بھی ایک اننگز اور 48 رنز کی شکست سے دوچار کر کے سیریز دو صفر سے جیت لی ہے۔ پاکستان کی پوری ٹیم دوسری اننگز میں 239 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔ اوپنر شان مسعود نے 68 جبکہ اسد شفیق نے 57 رنز سکور کیے۔

پاکستانی کھلاڑی پھر دو باریاں کر کے بھی آسٹریلیا کے تین بلے بازوں جتنا سکور نہ کر سکے۔

آسٹریلوی بولر لیون نے پانچ پاکستانی بلے بازوں کو پویلین بھیجا جبکہ ہیزل وڈ نے تین وکٹیں حاصل کیں۔

میچ کے چوتھے روز پاکستان نے تین کھلاڑی آؤٹ پر اپنی دوسری اننگز کا آغاز کیا مگر دو بلے باز ابتدا میں ہی آؤٹ ہوگئے۔

قبل ازیں آسٹریلیا کے 589 رنز اننگز ڈیکلیئرڈ کرنے کے بعد پاکستان کی ٹیم پہلی اننگز میں 302 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی تھی۔ سپنر یاسر شاہ نے بلے بازی کرتے ہوئے ٹیم کو ایک اور بدترین شکست سے نکالنے کی کوشش میں آسٹریلیا کے خلاف سینچری سکور کی۔ انہوں نے نویں وکٹ کی شراکت میں محمد عباس کے ساتھ مل کر 87 رنز بھی سکور کیے ہیں۔

یاسر شاہ نے 192 گیندوں کا سامنا کر کے سینچری بنائی جس میں 12 چوکے بھی لگائے۔ وہ 113 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

پاکستان کی آٹھویں وکٹ 194 رنز پر گری تھی جب شاہین آفریدی آؤٹ ہوئے تھے۔

اس سے قبل دوسرے دن ایڈیلیڈ کے میدان میں آسٹریلوی بلے بازوں نے پاکستانی بولرز کی بھرپور پٹائی کے بعد تین وکٹوں کے نقصان پر 589 رنز بنائے اور اننگز ڈیکلیئرڈ کر دی۔ ڈیوڈ وارنر نے ٹرپل سینچری سکور کی۔

وارنر ٹرپل سینچری بنانے والے ساتویں آسٹریلوی بلے باز بن گئے ہیں۔ پاکستانی بولرز کے خلاف یہ چوتھی ٹرپل سینچری ہے۔ آخری بار سنہ 2004 میں ورندر سہواگ نے ملتان میں پاکستان کے خلاف تین سو سے زائد رنز بنائے تھے۔

بارش سے متاثرہ پہلے دن کے کھیل میں آسٹریلوی ٹیم نے 75 اوورز میں 302 رنز بنائے تھے اور اس کا ایک کھلاڑی آؤٹ ہوا تھا۔

ادھر پاکستان کے سابق فاسٹ بولر شعیب اختر نے کہا ہے کہ بولرز کو سمجھ نہیں آ رہی کہ آسٹریلوی بلے بازوں کی وکٹ کیسے حاصل کریں۔

انہوں نے لکھا ہے کہ ”آسٹریلیا کی بیٹنگ ڈیکلیئرڈ کے اعلان کا انتظار کر رہے ہیں۔ ایسا نہیں ہوتا بھائی۔“

میچ کے دوسرے دن آسٹریلوی سٹیو سمتھ نے اپنے سات ہزار ٹیسٹ رنز مکمل کر کے ریکارڈ بنایا ہے۔

انہوں نے صرف 126 ٹیسٹ اننگز میں یہ رنز سکور کیے ہیں۔

متعلقہ مضامین