منظور پشتین نے مفتی کفایت اللہ کی عیادت کی مگر

کیا تاریخ نے خود کو دہرایا اور مانسہرہ کے چھ افراد نے 90 سال پرانی روایت تازہ کی؟

عادل پکھلوی ۔ صحافی

پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین مانسہرہ آئے اور کنگ عبداللہ ہسپتال میں جمعیت علمائے اسلام کے مضروب رہنما مفتی کفایت اللہ کی عیادت کی۔ مفتی صاحب کو ہفتہ قبل نامعلوم افراد نے آہنی راڈز سے حملہ کر کے زخمی کر دیا تھا۔

منطور پشتین جب ہسپتال سے باہر نکلے تو چھ سات نامعلوم افراد نے ان کے خلاف نعرے بازی کی۔ یہ سب دیکھا تو مجھے بابائے امن باچا خان (رح) کی کتاب ”زما جوند او جدوجہد“ میں نے پڑھا واقعہ یاد آ گیا۔

سنہ 1929-30 کے زمانے میں باچا خان پہلی بار مانسہرہ کے دورے پر آئے تو انگریز سامراج کا ایک ٹاؤٹ جو کہ وکالت کے شعبے سے تعلق رکھتا تھا نے اپنے آقاؤں کے کہنے پر دو چار افراد کے ساتھ سیاہ جھنڈیاں لے کر باچا خان کے خلاف نعرے لگائے۔

باچا خان لکھتے ہیں کہ ”میری سیاسی جدوجہد میں یہ پہلا تجربہ تھا کہ میرے ہی صوبے میں میرے مسلمان بھائیوں نے جن کی آزادی کے لیے میں نے دن رات ایک کی ہوئی ہے میرے خلاف نعرے لگا دیے اور سیاہ جھنڈوں سے میرا استقبال ہوا حالانکہ اپنے صوبے کے علاوہ پورے ہندوستان پنجاب کراچی میں جہاں بھی گیا ہندوستان کے لوگوں نے میری پذیرائی کی۔ صرف انگریز حکومت، پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے ہمیشہ رکاوٹیں سامنے آتی تھی جنہیں میں خندہ پیشانی سے قبول کرتا تھا مگر یہاں تو اپنے بھائی ہی۔۔“

باچا خان علاقہ سفیدہ اور پکھل کے زمین دار گھرانوں کی دعوت پرمانسہرہ آئے تھے جب انہیں اس بات کا علم ہوا کہ ان کے مہمان کے ساتھ یہ سلوک ہوا ہے تو حالات کشیدہ ہو گئے اور انگریز کے ٹاوٹوں کو سبق سکھانے کے لیے جرگہ ہوا مگر باچا خان نے سختی سے منع کر دیا کہ ہم امن والے لوگ ہیں سیاسی میدان میں یہ ہوتا رہتا ہے انگریز ہمیں آپس میں لڑانا چاہتا ہے ہم اس کی سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

سفیدہ کے میزبان باچا خان کو ایک بڑے جلوس کی صورت مانسہرہ سے اپنے علاقے تک لے کر گئے۔

باچا خان لکھتے ہیں کہ ”سفیدہ میں جلسے اور دیگر ملاقاتوں کے بعد دوسرے دن پھر جلوس کی شکل میں مانسہرہ تک لایا گیا جہاں سے پکھل کی طرف روانہ ہوئے۔ اہلیان بفہ و پکھل گاندھیاں کے مقام پر استقبال کے لیے نکل آئے اور ایک بڑے جلوس کی صورت مجھے بفہ لے کر گئے جہاں پر بڑی آؤ بھگت کی گئی مگر میں نے تمام خدائی خدمت گاروں کو تکلفات سے منع کر دیا۔ بفہ میں بہت بڑا جلسہ ہوا۔“


باچا خان لکھتے کہ ”پکھل کے خدائی خدمت گاروں کو جب مانسہرہ کے واقعہ کا پتہ چلا تو وہ بہت رنجیدہ اور شرمندہ ہوئے، میں نے انہیں تسلی دی کہ کوئی بات نہیں مگر ان کا کہنا تھا کہ آپ ہمارے مہمان ہیں اور ان انگریز کے ٹاوٹوں نے ہماری روایات کو توڑا ہے۔“


باچا خان لکھتے ہیں کہ مانسہرہ میں میرے خلاف احتجاج میں پکھل کے علاقوں ڈہوڈیال اور شنکیاری سے بھی دو اشخاص نے انجانے میں اس وکیل کے کہنے پر شرکت کر لی تھی۔ اہل بفہ نے ان دو گاؤں کے مشران کو جرگہ میں بلا کر گلہ کیا۔ وہ بھی بہت شرمندہ ہوئے کہ ہماری پختون روایات کو پاؤں تلے روندا گیا ہے۔ ان مشران نے ڈہوڈیال اور شنکیاری میں بھی میرے حق میں جلسوں کا انعقاد کیا (یہ جلسے میرے شیڈول یں شامل نہیں تھے) تقاریر میں اپنے پختون بھائیوں اور دیگر اہل علاقہ کو اپنی جدوجہد اور انگریز سامراج کی سازشوں سے آگاہ کیا۔“


آج تقریباً 90 سال بعد منظور پشتین نے باچا خان کی راہ اپنائی ہے۔ اور مانسہرہ کے چند ٹاؤٹ قسم کے ہرکاروں نے انگریز سامراج کی یاد تازہ کر دی اور علاقائی روایات کا جنازہ نکالتے ہوئے ایک مہمان کو بے عزت کرنے کی کوشش کی۔


PTM کے رہنما منظور احمد پشتین جب کنگ عبداللہ ہسپتال سے مولانا مفتی کفایت اللہ کی عیادت کر کے واپس اپنی گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہوئے تو ہسپتال کے گیٹ پر پانچ چھ نوجوانوں نے گاڑی کے سامنے منظور کے خلاف نعرے بازی شروع کر دی۔ خیر گاڑی تو نکل گئی مگر یہ لوگ کچھ دیر تک گلے پھاڑ کر نعرے بازی کرتے رہے۔

منظور مخالف نعروں کے ساتھ انہوں نے پاک فوج زندہ باد اور آئی ایس آئی زندہ باد کے نعرے بھی لگائے۔ اب سوال یہ ہے کہ ان لوگوں کو کسی نے اس کام کا ٹارگٹ دیا تھا یا یہ خود سے ہی پاک فوج کے چاچے مامے بنے پھرتے ہیں۔

نہیں سمجھتا کہ ہمارے سیکورٹی ادارے اس قسم کی غیر ذمہ دارانہ حرکت کرتے ہوں گے کیونکہ ملک نازک دور سے گذر رہا ہے۔ ایک جمہوری تحریک کا رہنما ایک قومی پارٹی کے رہنما کی عیادت کو آیا ہے جو کسی مقدمے میں مطلوب نہیں، جو کسی مسلح جدوجہد ملوث نہیں، اس کے خلاف ایسی نچلی سطح کی حرکت ہمارے ادارے تو کم از نہیں کر سکتے۔

یہ ان نعرے باز چھوٹے لوگوں کی اپنی ذہنی اختراع ہوگی جن کا اپنا کوئی کام کسی سرکاری محکمے میں پھنسا ہوگا اور اب حکام کے سامنے اپنے نمبر بڑھانے کے چکر میں ہوں گے۔

متعلقہ مضامین