فوج کے حراستی مراکز کے قیدیوں کی تفصیلات طلب

سپریم کورٹ نے سابق قبائلی علاقوں کے حراستی مراکز میں قید افرادتفصیلات طلب کرلیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ حراستی مراکز میں قید پاکستانیوں کے مقدمات پرمتعلقہ حکام نظر ثانی کرتے ہیں یا نہیں اس معاملے کا خود جائزہ لیں گے،آئیں پاکستان مساوی سلوک کی بات کرتا ہے، زیر حراست ہر پاکستانی شہری کیلئے فکر مند ہیں۔جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ پتہ نہیں نائن الیون کا واقعہ فرضی تھا یاحقیقی،نائن الیون کے بعد ایسے واقعات رونما ہوئے،دنیا کے دیگر ممالک کے قانون کو بھی دیکھیں۔

عدالت عظمی میں فاٹا پاٹا ایکٹ، ایکشن ان ایڈ آف سول پاور کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل کیپٹن ریٹائرڈ انور منصور اور جسٹس قاضی فائز کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ قانون کے ہم آرٹیکل 10 کو دیکھنا چاہیں گے، اس میں ایلینز خلائی دشمن کا لفظ استعمال ہوا ہے، یہ کون لوگ ہیں۔

چیف جسٹس آصف کھوسہ نے اٹارنی جنرل سے پوچھا کہ کیا یہ خلائی دشمن پاکستان کے شہری ہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر وہ شہری غیر ملکی قوتوں کے ساتھ ملوث ہوگا تب خلائی کہلائے گا۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ ”ہمیں ان علاقوں میں دشمن کی جانب سے شدید بیرونی مداخلت کا سامنا رہا، وہاں بہت سے افراد کے پاس شناختی کارڈ بھی نہیں۔“

جسٹس قاضی فائز عیسی نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ جن قانونی حوالوں پر انحصار کر رہے ہیں، آپ نے ان قوانین کی کتابوں کے نام نہیں دیے۔ جن قوانین پر دلائل دے رہیں ہیں اس سے متعلق کتابوں کا عدالتی عملے کو نہیں بتایا گیا وگرنہ وہ ججوں کو فراہم کر دی جاتیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کیا ان لوگوں کو حراستی مراکز میں رکھا جاتا ہے جن کی شناخت ثابت نہ ہو۔ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ حراستی مراکز میں بیشتر وہی لوگ ہیں جن کی شناخت ثابت نہیں ہوتی، جن کی شناخت ثابت ہوتی ہے ان کے خلاف عدالتوں کے ذریعے بھی کارروائی ہوئی ہے۔

جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ جس قانون کا آپ ذکر کررہے ہیں اس میں مقدمہ خصوصی عدالت کے سامنے بھی جاتا ہے، کیا آپ نے ایسا کیا۔ ”میں سمجھنا چاہتا ہوں کہ کسی کو خلائی دشمن کیسے قرار دیا جاتا ہے۔“

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پوچھا کہ خلائی دشمن قرار دینے کے بعد کس قانون کے تحت کاروائی ہوتی ہے۔ اٹارنی جنرل نے جواب میں کہا کہ ”مجھے لگتا ہے شاید معزز جج سمجھنا نہیں چاہتے۔“

جسٹس فائز عیسی نے کہا کہ سمجھنا نہیں چاہتے؟ آپ یہ الفاظ استعمال کریں گے؟۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ”میں نے سوال کیا ہے اس کا جواب دینا آپ کا فرض ہے، آپ میرے سوال کا قانون کے مطابق جواب دیں۔“

رپورٹ: جہانزیب عباسی

کیس کی سماعت کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور اٹارنی جنرل کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے پوچھا بھارت کو کب دشمن ملک قرا ردیا گیا مجھے دستاویز دکھائیں۔

اٹارنی جنرل نے جواب دیا میں بھارت کو دشمن ملک قرار دینے کا نوٹیفکیشن پیش کردوں گا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بولے کیا مقدمہ ختم ہونے کے بعد نوٹیفیکیشن پیش کریں گے،آپ سوال کا جواب نہیں دے رہے،ابھی تک اپنی نوٹ بک پہ لکھنے کیلئے کوئی نوٹس بھی نہیں لے سکا۔اس پر اٹارنی جنرل نے زرا اونچی آواز سے کہا نوٹس لینے ہیں یا نہیں یہ آپکا کام ہے میرا نہیں، مجھے بار بار ٹوکا جاتا ہے، پوری بات نہیں سنی جاتی، ایسے ماحول میں دلائل نہیں دے سکتا، میں یہاں چلا جاتا ہوں،اسی لیے میں نے ان کی بینچ میں موجودگی پر اعتراض اٹھایا تھا۔

جسٹس گلزار احمد بولے اٹارنی جنرل صاحب دلائل دیں لڑائی نہ کریں، عدالت آپ کے آفس کا احترام کرتی ہے۔چیف جسٹس نے کہا عدالت کو مطمئن کرنا آپ کا کام ہے،جواب نہ ملنے پر ایسے حالات پیدا ہورہے ہیں۔

جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دس رکنی فل کورٹ نے فاٹا اصلاحات کیس کی سماعت کی۔سماعت کا آغاز ہوا تو جسٹس گلزار احمد بولے ہم آرٹیکل 10 کو دیکھنا چاہیں گے،اس میں خلائی دشمن(غیر ملکی دشمن) کا لفظ استعمال ہوا ہے، یہ کون لوگ ہیں۔چیف جسٹس نے پوچھا کیا یہ خلائی دشمن پاکستان کے شہری ہیں۔اٹارنی جنرل نے جواب دیا اگر وہ غیر ملکی قوتوں کے ساتھ ملوث ہوگا تب وہ پاکستانی کی بجائے خلائی دشمن کہلائے گا، ہمیں ان علاقوں میں دشمن کی جانب سے شدید بیرونی مداخلت کا سامنا رہا،وہاں بہت سے افراد کے پاس شناختی کارڈ بھی نہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا آپ نے قوانین کی کتابوں کے نام نہیں دئیے،آپ جن قوانین پر دلائل دے رہیں ہیں اس سے متعلق کتابوں کا عدالتی عملے کو نہیں بتایا گیا، قدمہ زیر سماعت ہے آپ نے کتابوں کے نام پہلے دینے کی زحمت نہیں کی۔چیف جسٹس نے کہا کیا ان لوگوں کو حراستی مراکز میں رکھا جاتا ہے جن کی شناخت ثابت نہ ہو۔اٹارنی جنرل نے جواب دیا ان میں بیشتر وہی لوگ ہیں جن کی شناخت ثابت نہیں ہوتی، جن کی شناخت ثابت ہوتی ہے ان کے خلاف عدالتوں کے ذریعے بھی کاروائی ہوئی ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا جس قانون کا آپ ذکر کررہے ہیں اس میں مقدمہ خصوصی عدالت کے سامنے بھی جاتا ہے، کیا آپ نے ایسا کیا، میں سمجھنا چاہتا ہوں کہ کسی کو خلائی دشمن کیسے قرار دیا جاتا ہے،خلائی دشمن قرار دینے کے بعد کس قانون کے تحت کاروائی ہوتی ہے۔اٹارنی جنرل نے کہا مجھے لگتا ہے شاید معزز جج سمجھنا نہیں چاہتے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بولے سمجھنا نہیں چاہتے؟ آپ یہ الفاظ استعمال کریں گے، میں نے سوال کیا ہے اس کا جواب دینا آپ کا فرض ہے، آپ میرے سوال کا قانون کے مطابق جواب دیں۔

اٹارنی جنرل کیپٹن ریٹائرڈ انور منصور نے کہا ملک دشمنوں سے نمٹنے کیلئے تحفظ پاکستان ایکٹ 2014 لایا گیا، ریاست کیخلاف ہتھیار اٹھانے والا ہر شخص ملک دشمن ہے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کسی کو ملک دشمن قرار دینے سے پہلے تحقیقات کرنا ہوتی ہیں، قانون کے مطابق تحقیقاتی رپورٹ عدالت کو بھی دینا ہوتی ہے،کتنی تحقیقاتی رپورٹس عدالتوں کو جمع کرائی گئیں؟۔چیف جسٹس بولے وفاقی حکومت باقاعدہ کسی ملک دشمن قرار دینے کا اعلان کرتی ہے، بھارت کوتجارت کی غرض سے پسندیدہ ترین ملک قرار دینے پر بھی بحث کا آغاز ہوا تھا، کہا گیا دشمن ملک کو پسندیدہ ترین کیسے قرار دیا جا سکتا ہے۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ حراستی مراکز میں قید افراد کے مقدمات پر ریو یو کیا جاتا ہے یا نہیں اس معاملے پر ہمیں تفصیلی رپورٹ دیں،ہمیں اس انفرادی شخص پر بھی تشویش ہے جو حراستی مرکز میں قید ہے او رپاکستانی بھی ہے،ہمیں تمام حراستی مراکز کا مکمل ریکارڈ فراہم کریں،آئین پاکستان مساوی سلوک کی بات کرتا ہے،ہر زیر حراست پاکستانی شہری کیلئے فکر مند ہیں۔

متعلقہ مضامین