افغانوں کا محسن جاپانی ڈاکٹر قتل

افغانستان کے صوبے ننگرہار میں جاپانی این جی او کی گاڑی پر حملے میں پانچ افراد ہلاک ہوگئے جن میں ڈاکٹر ٹیسو نکمارو (ناکا مورا) بھی شامل ہیں جنہوں نے 13 برس سے زراعت کے لیے آبپاشی کے شعبے میں کام کیا۔

افغان وزارت داخلہ کے مطابق ملک کے وسطی صوبے ننگرہار کے شہر جلال آباد میں نامعلوم مسلح شخص نے ایک گاڑی پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں تین افراد ہلاک جبکہ دو زخمی ہوئے جو بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔

وزارت داخلہ کے ترجمان نصرت رحیمی کے مطابق واقعہ بدھ کی صبح جلال آباد شہر میں پیش آیا۔

رحیمی نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں جاپانی شہری ڈاکٹر ٹیسو نکمارو بھی شامل ہیں۔

ننگرہار کے صوبائی گورنر کے ترجمان عطاء اللہ خوگیانی کا کہنا ہے کہ جاپانی انسٹی ٹیوٹ تیرہ سالوں سے صوبہ ننگرہار کے محکمہ پانی اور زراعت میں کام کررہا ہے اور اس نے شیوا، بہسود اور کامی اضلاع میں واٹر ڈیم بنائے ہیں، جس کے نتیجے میں اس علاقے میں ہزاروں ایکڑ بنجر اراضی قابل کاشت ہوئی ہے۔

افغان حکومت نے انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ ٹیسو نکمارو کو ان کے کام کے صلے میں اعزازی افغان شہریت بھی دی تھی۔

ابھی تک اس حملے کی ذمہ داری کسی بھی مسلح گروپ نےقبول نہیں کی۔
ڈاکٹر ٹیسو کو امن کا رومن ماگسیسی ایوارڈ مل چکا تھا اور وہ پچھلے 15 سالوں سے افغان صوبہ ننگرہار میں زراعت کے لیے آبپاشی پر کروڑوں ین لگا چکے تھے۔

ڈاکٹر ٹیسو سے قبل یہ کام ان کے بھائی کر رہے تھے جو افغان مسلح افراد کے ہاتھوں قتل ہوئے تو ان کے ادھورے کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے ڈاکٹر ناکامورا نے اپن کلینیکل پریکٹس چھوڑی اور چاپان سے افغانستان چلے گئے۔

ڈاکٹر ناکامورا نے ننگرہار میں بنجر زمین کو اباد کرنے پر کام شروع کیا، انہوں نے سنہ 2003 میں ننگرہار کے خیوہ ضلع میں ایک بڑی نہر پر کام شروع کیا اور دریائے کنڑ سے 25 کلومیٹر طویل نہر نکال کر ننگرہار کے لوگوں کی زندگی بدل دی۔

2016 میں ڈاکٹر ناکامورا نے مزید آٹھ نہریں نکالیں، جو 16000 ہیکٹر رقبے کو سیراب کر رہی ہیں۔ ڈاکٹر ٹیسو نکمارو کے کام سے ضلع گمبیری کے چھ لاکھ افراد مستفید ہو رہے ہیں۔


ڈاکٹر ناکامورا کا ایک ہی نعرہ تھا کہ اسلحہ اور ٹینکس مسائل کا حل نہیں ہے۔ انہوں نے ایک بار امریکی بمباری سے متعلق کہا تھا کہ وہ فضا سے موت بانٹتے ہیں اور ہم زمین کھود کر زندگی بناتے ہیں۔

افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی نے ان کو ایوارڈ سے بھی نوازا اور ان کو افغانستان کا اعزازی شہریت سے بھی نوازا۔

متعلقہ مضامین