پاکستان24 متفرق خبریں

کیا پاکستانی میڈیا آزاد ہے؟ جسٹس قاضی فائز کا عدالت میں ریفرنڈم

فروری 4, 2021 3 min

کیا پاکستانی میڈیا آزاد ہے؟ جسٹس قاضی فائز کا عدالت میں ریفرنڈم

Reading Time: 3 minutes

کیا پاکستان میں میڈیا آزاد ہے؟ جسٹس قاضی فائز نے عدالت میں ریفرنڈم کرا دیا۔ اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کہتے رہے کہ ابھی جدوجہد کے دور میں ہیں جبکہ عدالت کے پوچھنے پر موجود تمام رپورٹرز نے میڈیا کے آزاد نہ ہونے کی رائے دی۔

جمعرات کو صوبہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے کیس میں جسٹس قاضی فائز نے ریفرنڈم کرایا۔

‏جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل سے میڈیا کی آزادی کا پوچھا۔ ان کی جانب سے واضح جواب نہ دیے جانے پر بینچ کے سربراہ نے کہا کہ کمرہ عدالت میں موجود صحافیوں سے ریفرنڈم کرا لیتے ہیں۔

جسٹس قاضی فائز نے سوال کیا کہ جو صحافی سمجھتے ہیں پاکستان میں میڈیا آزاد ہے وہ ہاتھ کھڑا کریں۔ اس پر عدالت میں موجود کسی  رپورٹر نے بھی ہاتھ کھڑا نہ کیا۔

اس کے بعد پوچھا کہ جو سمجھتا ہے میڈیا آزاد نہیں ہے وہ ہاتھ کھڑا کرے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے اس سوال پر کمرہ عدالت میں موجود تمام صحافیوں نے ہاتھ اٹھا دیے۔

اٹارنی جنرل نے اس دوران کہا کہ ہم سب لوگ جدوجہد میں ہیں اور تاریخ رقم ہو رہی ہے۔

جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ ریفرنڈم میں نتائج سو فیصد آئے ہیں۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ آپ لوگ میڈیا کا گلا کیوں گھونٹ رہے ہیں، حکومت کو اپنی تعریف سننے کا اتنا شوق کیوں ہے؟

مقدمے کی کارروائی کے دوران یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بلدیاتی انتخابات سے متعلق سرکاری ٹی وی پر عدالتی کارروائی اور فیصلوں کے بارے میں خبریں نشر نہ ہونے کے بارے میں پوچھا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یہ سرکاری میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ لوگوں میں اس حوالے سے شعور پیدا کرے اور ان کو معلومات پہنچائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نجی میڈیا کی بات ہم اس لیے نہیں کرتے کہ وہ آزاد نہیں۔

جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ ان کو یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ میڈیا آزاد نہیں ہے۔ ‘جب آپ فری پریس کو بند کرتے ہیں تو جمہوریت کا گلہ گھونٹا جاتا ہے۔

اس موقع پر بینچ کے دوسرے رکن جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ اب تو سوشل میڈیا پر بھی قدغنیں عائد کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب کوئی آئین پر عمل کی بات کرتا ہے تو غدار قرار دیا جاتا ہے۔

جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ ضیا الحق بھی بلدیاتی الیکشن کراتے تھے اور کہتے تھے کہ جب تک مثبت یعنی من پسند نتائج نہیں آتے قبول نہیں۔

بینچ کے سربراہ نے کہا کہ جو کام کرنا ہوتا ہے کر لیتے ہیں۔ جب ضمنی الیکشن اور گلگت بلتستان میں انتخابات کرانا ہوں تو کرا لیے جاتے ہیں مگر جب بلدیاتی الیکشن کرانے کا کہتے ہیں تو جواب آتا ہے کہ کورونا ہے۔

جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ ہم بطور قوم اور ملک کہاں جا رہے ہیں؟ بلدیاتی الیکشن کرانا آئینی تقاضا ہے اور پنجاب میں بغیر کسی وجہ کے بلدیاتی ادارے تحلیل کر دیے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ بظاہر ایسا ہی ہے کہ برسراقتدار جماعت دیکھتی ہے کہ بلدیات میں مخالف جماعت کے لوگ جیت گئے ہیں تو نظام ہی لپیٹ دیا۔

جسٹس مقبول باقر نے اٹارنی جنرل اور پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل سے کہا کہ یہ تو آپ نے اوور تھرو کر دیا۔

جسٹس قاضی فائز کا کہنا تھا کہ پنجاب میں بلدیاتی نظام کی جمہوری گاڑی چل رہی تھی تو کیوں ڈی ریل کیا؟ بدترین ڈکٹیٹر بھی اس طرح نہیں کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ دارالحکومت سے شہری لاپتہ ہوتے ہیں، صحافی اغوا کیے جاتے ہیں اور جب پوچھا جاتا ہے کہ کس نے کیا تو جواب ہوتا ہے کہ ہمیں نہیں معلوم کون ملوث ہے؟ اگر آپ کو نہیں پتہ تو گھر جائیں۔

جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ ‘ہمارا دل رو رہا ہے۔ کب تک خاموش رہیں گے۔ جس نے چپ رہنا ہے رہے، ہمیں بولنا ہے آئین و قانون کی حکمرانی کے لیے، ہم نے حلف اٹھایا ہوا ہے۔ ملک میں بلدیاتی نمائندے نہ ہونے کی وجہ سے لوگ کس عذاب سے گزر رہے ہیں۔’

جسٹس باقر نے کہا کہ ججز اس طرح نہیں بولتے مگر ہم غیر معمولی حالات میں جی رہے ہیں۔ خدانخواستہ اگر خود کو نہ سدھارا تو ہمیں وقت نہیں ملے گا۔

Array

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے